حدیث نمبر: 11424
عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ كُلُّ نِسَائِكَ لَهَا كُنْيَةٌ غَيْرِي فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”اكْتَنِي أَنْتِ أُمَّ عَبْدِ اللَّهِ“ فَكَانَ يُقَالُ لَهَا أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ حَتَّى مَاتَتْ وَلَمْ تَلِدْ قَطُّ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرے سوا آپ کی تمام ازواج نے کنیت رکھی ہوئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم ام عبداللہ کنیت رکھ لو۔ پس ان کو ام عبد اللہ کہا جاتا رہا، یہاں تک کہ کوئی بچہ جنم دیئے بغیر سیدہ وفات پا گئیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بہن سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کے بیٹے کا نام عبد اللہ تھا، سیدہ عائشہ کی کنیت ام عبد اللہ اسی ان کے بھانجے کی وجہ سے رکھی گئی تھی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11424
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الطبراني في الكبير : 23/35، عبد الرزاق: 19858، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25181 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25696»