حدیث نمبر: 11423
عَنْ سُمَيَّةَ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ عَلَى صَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فِي شَيْءٍ فَقَالَتْ صَفِيَّةُ يَا عَائِشَةُ أَرْضِي عَنِّي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَكِ يَوْمِي فَقَالَتْ نَعَمْ فَأَخَذَتْ خِمَارًا لَهَا مَصْبُوغًا بِزَعْفَرَانٍ فَرَشَّتْهُ بِالْمَاءِ لِيَفُوحَ رِيحُهُ فَقَعَدَتْ إِلَى جَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِلَيْكِ يَا عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيْسَ يَوْمَكِ“ قَالَتْ {ذَلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ} [سورة الجمعة: 4] وَأَخْبَرَتْهُ بِالْأَمْرِ فَرَضِيَ عَنْهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ بنت حیی رضی اللہ عنہا سے نا راض ہوگئے، انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آ کر ان سے کہا کہ آپ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مجھ سے راضی کرا دیں تو میں اپنی ایک باری آپ کو دوں گی۔ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، پس انہوں نے زعفران سے رنگا ہوا اپنا دوپٹہ لیا اور اس پر پانی چھڑکا، تاکہ اس کی خوشبو مہک اٹھے، اور پھر جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ گئیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! پرے ہٹ جاؤ، آج تمہاری باری نہیں ہے۔ لیکن سیدہ نے جواباً یہ آیت پڑھی: {ذَلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیہِ مَنْیَشَائُ} … یہ تو اللہ کا فضل ہے، وہ جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ پھر انہوں نے ساری بات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلائی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا سے راضی ہوگئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11423
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة سمية بصرية، اخرجه ابن ماجه: 1973 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25147»