الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حِظُوَتِهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحُبِّهِ إِيَّاهَا وَإِجَابَةِ طَلَبِهَا فِي غَيْرِ مَحْظُورٍ باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11422
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ بَيْنَ نِسَائِهِ فَيَعْدِلُ وَيَقُولُ ”هَذِهِ قِسْمَتِي“ ثُمَّ يَقُولُ ”اللَّهُمَّ هَذَا فِعْلِي فِيمَا أَمْلِكُ فَلَا تَلُمْنِي فِيمَا تَمْلِكُ وَلَا أَمْلِكُ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … کسی ایک بیوی کی طرف دلی میلان تو زیادہ ہو سکتا ہے، لیکن بظاہر ہر ایک کے ساتھ برابری کرنی چاہیے۔