الفتح الربانی
— باب
بَابُ مَا جَاءَ فِي حِظُوَتِهَا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحُبِّهِ إِيَّاهَا وَإِجَابَةِ طَلَبِهَا فِي غَيْرِ مَحْظُورٍ باب: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں مقبولیت، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ان سے محبت اور مباح کاموں میںآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اپنی اہلیہ کی خواہش کو پورا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 11421
عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ عَنْ أُمِّ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُهْدِيَتْ لَهُ هَدِيَّةٌ فِيهَا قِلَادَةٌ مِنْ جَزْعٍ فَقَالَ ”لَأَدْفَعَنَّهَا إِلَى أَحَبِّ أَهْلِي إِلَيَّ“ فَقَالَتِ النِّسَاءُ ذَهَبَتْ بِهَا ابْنَةُ أَبِي قُحَافَةَ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ زَيْنَبَ فَعَلَّقَهَا فِي عُنُقِهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک ہدیہ پیش کیا گیا، اس میں یمنی موتیوں کا ایک ہار بھی تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں یہ ہار اپنے اہل میں سے اس کو دوں گا، جو مجھے سب سے زیادہ محبوب ہے۔ عورتوں نے سمجھا کہ اس ہار کو ابو قحافہ کی بیٹی یعنی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا لے جائیں گی، مگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی نواسی سیدہ امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو بلوا کر وہ ہار ان کی گردن میں ڈال دیا۔
وضاحت:
فوائد: … اس روایت کا درج ذیل سیاق صحیح ہے: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: قَدِمَتْ عَلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حِلْیَۃٌ مِنْ عِنْدِ النَّجَاشِیِّ أَہْدَاہَا لَہُ فِیہَا خَاتَمٌ مِنْ ذَہَبٍ فِیہِ فَصٌّ حَبَشِیٌّ، فَأَخَذَہُ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِعُودٍ بِبَعْضِ أَصَابِعِہِ مُعْرِضًا عَنْہُ ثُمَّ دَعَا أُمَامَۃَ بِنْتَ أَبِی الْعَاصِ ابْنَۃَ ابْنَتِہِ فَقَالَ: ((تَحَلَّیْ بِہٰذَا یَا بُنَیَّۃُ۔)) … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجاشی کی جانب سے تحفہ میں زیورات آئے، جن میں ایک سونے کی انگوٹھی تھی، اس کا نگینہ حبشی تھا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بعض انگلیوں کی مدد سے ایک لکڑی کے ذریعے اس سے اعراض کرتے ہوئے اس کو پکڑا اور پھر اپنی نواسی سیدہ امامہ رضی اللہ عنہا کو بلایا اور کہا: پیاری بیٹی! اسے بطور زیور پہن لو۔ (ابوداود: ۴۲۳۵، مسند احمد۲۴۸۸۰)