حدیث نمبر: 11407
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ تَزَوَّجَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي شَوَّالٍ وَأُدْخِلْتُ عَلَيْهِ فِي شَوَّالٍ فَأَيُّ نِسَائِهِ كَانَ أَحْظَى عِنْدَهُ مِنِّي فَكَانَتْ تَسْتَحِبُّ أَنْ تَدْخُلَ نِسَاؤُهَا فِي شَوَّالٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے شوال کے مہینے میں نکاح کیا اور مجھے شوال ہی کے مہینہ میں آپ کے ہاںروانہ کیا گیا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی کونسی بیوی آپ کی نظروں میں مجھ سے زیادہ وقعت والی تھی؟ چنانچہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے خاندان کی عورتوں کیشادیاں ماہ شوال میں کرنا زیادہ پسند کیا کرتی تھیں۔

وضاحت:
فوائد: … عربوں کے ہاں ماہ شوال کو منحوس سمجھا جاتا تھا، اس لیے وہ شوال کے مہینے میں نکاح وغیرہ کے کرنے سے اجتناب کرتے تھے، اسلام نے ایسی توہم پرستی اور بد خیالی کا انکار کیا ہے، اسی سلسلہ میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ میرے ساتھ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا نکاح بھی اسی مہینے میں اور رخصتی بھی اسی مہینے میں ہوئی تھی، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بڑی وقعت والی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1423، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24776»