حدیث نمبر: 11383
عَنْ عَمْرِو بْنِ سَعِيدٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَرْحَمَ بِالْعِيَالِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِبْرَاهِيمُ مُسْتَرْضَعًا فِي عَوَالِي الْمَدِينَةِ وَكَانَ يَنْطَلِقُ وَنَحْنُ مَعَهُ فَيَدْخُلُ الْبَيْتَ وَإِنَّهُ لَيُدَّخَنُ وَكَانَ ظِئْرُهُ قَيْنًا فَيَأْخُذُهُ فَيُقَبِّلُهُ ثُمَّ يَرْجِعُ قَالَ عَمْرٌو فَلَمَّا تُوُفِّيَ إِبْرَاهِيمُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ إِبْرَاهِيمَ ابْنِي وَإِنَّهُ مَاتَ فِي الثَّدْيِ فَإِنَّ لَهُ ظِئْرَيْنِ يُكْمِلَانِ رَضَاعَهُ فِي الْجَنَّةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بڑھ کر اپنے اہل و عیال کے حق میں مہربان کسی کو نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بیٹے سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ مدینہ منورہ کی بالائی بستیوں میں رضاعت کے لیے بھیجے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو دیکھنے کے لیے تشریف لے جاتے، ہم بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہوتے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے گھر میں داخل ہو جاتے، حالانکہ اس گھر میں دھواں اٹھ رہا ہوتا تھا، کیونکہ ان کا رضاعی والد لوہار تھا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کو اٹھاتے، اسے بوسے دیتے اور پھر واپس تشریف لے آتے۔ عمرو راوی کہتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک ابراہیم میرا بیٹا ہے، چونکہ یہ دودھ پینے کی مدت کے اندر اندر فوت ہوا ہے، اس لیے اس کی جنت میں دو رضاعی مائیںہوں گی، جو اس کی رضاعت کو پورا کریں گی۔

وضاحت:
فوائد: … سید الاوّلین والآخرین نے اپنے بچے کو دودھ پلانے کے لیے لوہار کے گھر بھیج دیا اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس لوہار کے گھر جانے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے، یہی بندگی ہے، یہی بندگی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11383
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2316 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12102 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12126»