حدیث نمبر: 11378
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخْبَرَتْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَأَلَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْسِمَ لَهَا مِيرَاثَهَا مِمَّا تَرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّا أَفَاءَ اللَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ لَهَا أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”لَا نُورَثُ مَا تَرَكْنَا صَدَقَةٌ“ فَغَضِبَتْ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَهَجَرَتْ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَلَمْ تَزَلْ مُهَاجِرَتَهُ حَتَّى تُوُفِّيَتْ قَالَ وَعَاشَتْ بَعْدَ وَفَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سِتَّةَ أَشْهُرٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناعروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کرتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا دختر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد امیر المؤمنین ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مطالبہ کیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مال فے کے حصہ سے ان کا حصہ ان کو دے دیں۔ ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہمارا ترکہ ورثاء میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔ ہم جو کچھ چھوڑ جائیں وہ صدقہ ہوتا ہے۔ یہ سن کر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ناراض ہوگئیںاور ابو بکر رضی اللہ عنہ سے بات چیت منقطع کر لی۔یہ سلسلہ انکی وفات تک رہا۔ عروہ کہتے ہیں کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات کے بعد چھ ماہ زندہ رہی تھیں۔

وضاحت:
فوائد: … راجح بات یہی ہے کہ نبی کرم کی وفات کے چھ ماہ بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا وفات پا گئی تھیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11378
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 3092، ومسلم: 1759 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25»