حدیث نمبر: 11375
عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ عَنِ الْمِسْوَرِ بْنِ مَخْرَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَيْهِ حَسَنُ بْنُ حَسَنٍ يَخْطُبُ ابْنَتَهُ فَقَالَ لَهُ قُلْ لَهُ فَلْيَأْتِنِي فِي الْعَتَمَةِ قَالَ فَلَقِيَهُ فَحَمِدَ الْمِسْوَرُ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ وَقَالَ أَمَّا بَعْدُ وَاللَّهِ مَا مِنْ نَسَبٍ وَلَا سَبَبٍ وَلَا صِهْرٍ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ سَبَبِكُمْ وَصِهْرِكُمْ وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”فَاطِمَةُ مُضْغَةٌ مِنِّي يَقْبِضُنِي مَا قَبَضَهَا وَيَبْسُطُنِي مَا بَسَطَهَا وَإِنَّ الْأَنْسَابَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ تَنْقَطِعُ غَيْرَ نَسَبِي وَسَبَبِي وَصِهْرِي“ وَعِنْدَكَ ابْنَتُهَا وَلَوْ زَوَّجْتُكَ لَقَبَضَهَا ذَلِكَ قَالَ فَانْطَلَقَ عَاذِرًا لَهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنامسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حسن بن حسن نے ان سے ان کی دختر کا رشتہ طلب کیا، اس نے جواباً یہ پیغام بھیجا کہ حسن بن حسن آج رات خود مجھ سے ملو۔ جب ان کی ان سے ملاقات ہوئی تو سیدنا مسور رضی اللہ عنہ نے پہلے تو اللہ کی حمد و ثناء کی اورپھر کہا: اللہ کی قسم! مجھے تمہاری رشتہ داری اور دامادی سے بڑھ کر دوسری کوئی چیز محبوب نہیں ہے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس بات سے وہ رنجیدہ ہو میں بھی اس سے رنجیدہ خاطر ہوتا ہوںاور جس بات سے وہ خوش ہو مجھے بھی اس سے خوشی ہوتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے تعلق، رشتہ داری اور دامادی کے علاوہ باقی تمام رشتہ داریاں قیامت کے دن منقطع ہو جائیں گی۔ تمہارے نکاح میں ان (یعنی سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ) کی ایک دختر موجود ہیں۔ اگر میں تمہارے ساتھ اپنی دختر کا نکاح کروں تو اس سے ان کا دل دکھے گا، چنانچہ وہ انہیں اس بارے میں معذور سمجھ کر چلے گئے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11375
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، اخرجه الحاكم: 3/ 154 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18907 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19114»