الفتح الربانی
— باب
فَمِنْهُمْ فَاطِمَةُ الزَّهْرَاءُ رَضِيَ اللهُ عَنْهَاْ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اولاد،اہل بیت اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج امہات المؤمنین کا تذکرہ سیدہ فاطمہ زہراء رضی اللہ عنہا کا تذکرہ
عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ أَنَّ الْمِسْوَرَ بْنَ مَخْرَمَةَ أَخْبَرَهُ أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَطَبَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ وَعِنْدَهُ فَاطِمَةُ ابْنَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا سَمِعَتْ بِذَلِكَ فَاطِمَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ لَهُ إِنَّ قَوْمَكَ يَتَحَدَّثُونَ أَنَّكَ لَا تَغْضَبُ لِبَنَاتِكَ وَهَذَا عَلِيٌّ نَاكِحٌ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ قَالَ الْمِسْوَرُ فَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ تَشَهَّدَ ثُمَّ قَالَ ”أَمَّا بَعْدُ فَإِنِّي أَنْكَحْتُ أَبَا الْعَاصِ بْنَ الرَّبِيعِ فَحَدَّثَنِي فَصَدَقَنِي وَإِنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ بَضْعَةٌ مِنِّي وَأَنَا أَكْرَهُ أَنْ يَفْتِنُوهَا وَإِنَّهَا وَاللَّهِ لَا تَجْتَمِعُ ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ وَابْنَةُ عَدُوِّ اللَّهِ عِنْدَ رَجُلٍ وَاحِدٍ أَبَدًا“ قَالَ فَتَرَكَ عَلِيٌّ الْخِطْبَةَعلی بن حسین بن علی بن ابی طالب سے مروی ہے کہ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ نے ان کو بتلایا کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کو نکاح کا پیغام بھجوایا، جبکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا ان کی زوجیت میں تھیں، جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات سنی تو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آکر عرض کی کہ آپ کی قوم باتیں بنائے گی کہ آپ اپنی بیٹیوں کے حق میں کسی کے ساتھ غصہ نہیں کرتے ،اب دیکھیں ناں کہ یہ علی رضی اللہ عنہ ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کرنے کی تیاریوں میں ہیں۔یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خطبۂ شہادت پڑھا اور پھر فرمایا: میں نے اپنی ایک بیٹی کا نکاح ابو العاص بن ربیع رضی اللہ عنہ سے کیا، پس اس نے میرے ساتھ کی ہوئی بات پوری کی، بے شک فاطمہ بنت محمد میرے جگر کا گوشہ ہے، میں یہ پسند نہیں کرتا کہ لوگ اسے رنجیدہ اورغمگین کریں، اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دختر اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کبھی بھی ایک آدمی کی زوجیت میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ یہ سن کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنا پروگرام ختم کر دیا۔
قریشیوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد سیدنا ابو العاص رضی اللہ عنہ سے یہ مطالبہ کیا تھا کہ وہ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا کو طلاق دے دیں، لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور اپنی بیوی سے حسن سلوک والا رویہ اپنائے رکھا۔