حدیث نمبر: 11371
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ عَلِيًّا ذَكَرَ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”إِنَّمَا فَاطِمَةُ بَضْعَةٌ مِنِّي يُؤْذِينِي مَا آذَاهَا وَيُنْصِبُنِي مَا أَنْصَبَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی سے نکاح کی باتیں کیں، جب یہ خبر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے، جس بات سے اسے دکھ پہنچتا ہے، مجھے بھی اس سے دکھ پہنچتا ہے اور جو بات اسے غمگین کرتی ہے، مجھے بھی اس بات سے رنج ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ابو جہل کییہ بیٹی مسلمان تھی اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ان سے نکاح کرنا جائز تھا، چونکہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو تکلیف اور پریشانی ہو سکتی تھی، جیسا کہ سوکنوں کے مسائل ہوتے ہیں، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی بیٹی کا دفاع کیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا علی کے لیے اس نکاح کو حرام نہیں قرار دیا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11371
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه الترمذي: 3869 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16123 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16222»