حدیث نمبر: 11368
عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَافَ بِالْبَيْتِ وَهُوَ عَلَى بَعِيرِهِ وَاسْتَلَمَ الْحَجَرَ بِمِحْجَنٍ كَانَ مَعَهُ قَالَ وَأَتَى السِّقَايَةَ فَقَالَ ”اسْقُونِي“ فَقَالُوا إِنَّ هَذَا يَخُوضُهُ النَّاسُ وَلَكِنَّا نَأْتِيكَ بِهِ مِنَ الْبَيْتِ فَقَالَ ”لَا حَاجَةَ لِي فِيهِ اسْقُونِي مِمَّا يَشْرَبُ مِنْهُ النَّاسُ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اونٹ پر سوار ہو کر بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنی چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہاں تشریف لائے، جہاں زمزم کا پانی پلایا جا رہا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے بھی پلاؤ۔ انہوں نے کہا: اس پانی کو تو لوگ متأثر کرتے رہتے ہیں، ہم آپ کے لیے گھر سے (صاف) پانی لے آتے ہیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی ضرورت نہیںہے، جہاں سے لوگ پی رہے ہیں، وہیں سے مجھے بھی پلا دیں۔

وضاحت:
فوائد: … یہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تواضع، عدم تکلف، سادگی اور حسن اخلاق کا ایک انداز تھا کہ جو چیز عام لوگ استعمال کر رہے ہیں، اسی کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ذات کے لیے ترجیح دی، جبکہ صاف پانی مہیا کرنے والے لوگ موجود تھے۔ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ پر سوار ہونے کی حالت ہی میں بیت اللہ کا طواف کیا اور اپنی لاٹھی سے حجر اسود کا استلام کیا تھا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زمزم پینے کے مقام پر تشریف لے گئے اور فرمایا: مجھے زمزم پلائو۔ پلانے والوں نے عرض کی کہ یہاںتو لوگ بکثرت آتے رہتے ہیں۔ (یعنییہ پانی صاف نہیں ہے) ہم آپ کے لیے گھر سے صاف ستھرا پانی لا دیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ مجھے بھی وہیں سے پلائو جہاں سے عام لوگ پیتے ہیں۔ فوائد: … کتاب الحج میں تفصیل کے ساتھ یہ مسائل گزر چکے ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11368
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه البخاري: 1635 بلفظ: عن ابن عباس: ان رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم جاء اليي السقاية فاستسقي،فقال العباس: يا فضل! اذھب الي امك فأت رسول الله صلي الله عليه وآله وسلم بشراب من عندھا، فقال: ((اسقني۔)) قال: يا رسول الله! انھم يجعلون ايديھم فيه، قال: ((اسقني۔)) فشرب منه ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1841 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1841»