حدیث نمبر: 11367
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ تَمَتَّعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ وَأَهْدَى فَسَاقَ مَعَهُ الْهَدْيَ مِنْ ذِي الْحُلَيْفَةَ وَبَدَأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَهَلَّ بِالْعُمْرَةِ ثُمَّ أَهَلَّ بِالْحَجِّ وَتَمَتَّعَ النَّاسُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْعُمْرَةِ إِلَى الْحَجِّ فَإِنَّ مِنَ النَّاسِ مَنْ أَهْدَى فَسَاقَ الْهَدْيَ وَمِنْهُمْ مَنْ لَمْ يُهْدِ فَلَمَّا قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِلنَّاسِ ”مَنْ كَانَ مِنْكُمْ أَهْدَى فَإِنَّهُ لَا يَحِلُّ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى يَقْضِيَ حَجَّهُ وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مِنْكُمْ أَهْدَى فَلْيَطُفْ بِالْبَيْتِ وَبِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَلْيُقَصِّرْ وَلْيَحْلِلْ ثُمَّ لِيُهِلَّ بِالْحَجِّ وَلْيُهْدِ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ هَدْيًا فَلْيَصُمْ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فِي الْحَجِّ وَسَبْعَةً إِذَا رَجَعَ إِلَى أَهْلِهِ“ وَطَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ قَدِمَ مَكَّةَ اسْتَلَمَ الرُّكْنَ أَوَّلَ شَيْءٍ ثُمَّ خَبَّ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ مِنَ السَّبْعِ وَمَشَى أَرْبَعَةَ أَطْوَافٍ ثُمَّ رَكَعَ حِينَ قَضَى طَوَافَهُ بِالْبَيْتِ عِنْدَ الْمَقَامِ رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفَ فَأَتَى الصَّفَا فَطَافَ بِالصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ثُمَّ لَمْ يَحْلِلْ مِنْ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ حَتَّى قَضَى حَجَّهُ وَنَحَرَ هَدْيَهُ يَوْمَ النَّحْرِ وَأَفَاضَ فَطَافَ بِالْبَيْتِ ثُمَّ حَلَّ مِنْ كُلِّ شَيْءٍ حَرُمَ مِنْهُ وَفَعَلَ مِثْلَ مَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَهْدَى وَسَاقَ الْهَدْيَ مِنَ النَّاسِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حجتہ الوداع کے موقع پر حج کے ساتھ عمرہ کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ذوالحلیفہ سے قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا اور لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں حج کے ساتھ عمرہ بھی کیا، کچھ لوگ تو قربانی کا جانور ہمراہ لے گئے تھے، لیکن کچھ لوگوں کے پاس قربانی کے جانور نہیں تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: جن کے ساتھ قربانی کا جانور ہے، ان پر احرام کی وجہ سے جو حلال چیز حرام ہو چکی ہے، وہ حج پورا ہونے تک حلال نہیں ہو گی، لیکن جن کے ہمراہ قربانی کا جانور نہیں ہے، وہ بیت اللہ کا طواف اور صفا و مروہ کی سعی کے بعد بال کٹوا کر احرام کھول دیں، پھر وہ حج کے لیے علیحدہ احرام باندھیں گے اور قربانی کریں گے، جو آدمی قربانی کرنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین روزے حج کے ایام میںاور سات روزے گھر جا کر رکھے گا۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مکہ مکرمہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیت اللہ کا طواف کیا، سب سے پہلے حجر اسود کا بوسہ لیا، اس کے بعد بیت اللہ کے گرد سات چکروں میں سے پہلے تین میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے رمل کیا اور باقی چار میں عام رفتار سے چلے، طواف مکمل کرنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مقام ابراہیم کے قریب دو رکعتیں ادا کی اور جب سلام پھیر کر فارغ ہوئے تو صفا پر تشریف لے گئے، اور صفا مروہ کی سعی کی اور حج سے فارغ ہونے تک احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی کوئی چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حلال نہ ہوئی، دس ذوالحجہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قربانی کی اور بیت اللہ کا طواف کیا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر احرام کی وجہ سے حرام ہونے والی ہر چیز حلال ہو گئی،جو لوگ قربانی کے جانور اپنے ساتھ لائے تھے، انھوں نے بھی اسی طرح کے اعمال سرانجام دیئے، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ادا کیے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … حدیث کے شروع میں مذکورہ تَمَتَّعَ کے لغوی معنی مراد ہے، یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حج کے ساتھ عمرے کا فائدہ بھی حاصل کر لیا، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حج قران ادا کر رہے تھے، لغوی اعتبار سے حج قران پر حج تمتع کا اطلاق بھی ہو جاتا ہے، اصطلاحی طور پر ان کی تعریفات میں فرق ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے حج کا تلبیہ پکارا تھا، پھر اس کے ساتھ عمرہ کا تلبیہ بھی شامل کر لیا۔ اس حدیث کے الفاظ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے احرام کے دوران پہلے عمرہ اور پھر حج کا تلبیہ پڑھا سے مراد یہ کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم احرام کے دوران تلبیہ کہتے تو پہلے عمرے کا ذکر کر دیتے اور پھر حج کا، اس سے مراد ابتدائے احرام کی حالت نہیں ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11367
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1691، ومسلم: 1227 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6247 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6247»