الفتح الربانی
العادات المباركة— عادات مبارکہ
بَابُ مَا جَاءَ فِي قِيَامِهِ ﷺ بِاللَّيْلِ وَوِتْرِهِ وَغَيْرِ ذَلِكَ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قیام اللیل اور وتر وغیرہ کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ قُلْتُ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَكَانَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي صَلَاةَ الضُّحَى قَالَتْ لَا إِلَّا أَنْ يَجِيءَ مِنْ مَغِيبَةٍ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يُصَلِّي جَالِسًا قَالَتْ بَعْدَ مَا حَطَمَهُ النَّاسُ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَقْرَأُ السُّورَةَ فَقَالَتْ الْمُفَصَّلَ قَالَ قُلْتُ أَكَانَ يَصُومُ شَهْرًا كُلَّهُ قَالَتْ مَا عَلِمْتُهُ صَامَ شَهْرًا كُلَّهُ إِلَّا رَمَضَانَ وَلَا أَعْلَمُهُ أَفْطَرَ شَهْرًا كُلَّهُ حَتَّى يُصِيبَ مِنْهُ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ يَزِيدُ يَقْرِنُ وَكَذَلِكَ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِعبداللہ بن شقیق کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سوال کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چاشت کی نماز ادا کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: نہیں،ہاں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو پڑھ لیتے۔ میں نے پوچھا: کیانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیٹھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زیادہ عمر والے ہوگئے تو بیٹھ کر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ میں نے پوچھا: کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سورتوں کوملا کر پڑھا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل سورتیں پڑھاکرتے تھے۔ میں نے سوال کیا: آیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پورا مہینہ بھی روزے رکھاکرتے تھے؟ انہوں نے کہا: میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ماہ رمضان کے علاوہ کبھی بھی پورا مہینہ روزے نہیں رکھے اور میرے علم کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی پورا مہینہ روزوں کا ناغہ بھی نہیں کیا۔وفات تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ معمول رہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر ماہ کچھ نہ کچھ روزے ضروررکھا کرتے تھے۔ یزید کی روایت میں یقرأ کی بجائے یقرن کا لفظ ہے۔ (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مفصل سورتیں ملا کر پڑھا کرتے تھے)۔
حَطَمَہُ النَّاسُ: لوگوں نے اسے بوڑھا کر دیا،یعنی وہ آدمی لوگوں کے مسائل و مشاکل حل کرنے کی وجہ سے وقت سے پہلے بوڑھا ہو گیا۔