حدیث نمبر: 11362
عَنْ يَعْلَى بْنِ مَمْلَكٍ أَنَّهُ سَأَلَ أُمَّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِاللَّيْلِ قَالَتْ كَانَ يُصَلِّي الْعِشَاءَ الْآخِرَةَ ثُمَّ يُسَبِّحُ ثُمَّ يُصَلِّي بَعْدَهَا مَا شَاءَ اللَّهُ مِنَ اللَّيْلِ ثُمَّ يَنْصَرِفُ فَيَرْقُدُ مِثْلَ مَا صَلَّى ثُمَّ يَسْتَيْقِظُ مِنْ نَوْمَتِهِ تِلْكَ فَيُصَلِّي مِثْلَ مَا نَامَ وَصَلَاتُهُ الْآخِرَةُ تَكُونُ إِلَى الصُّبْحِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

یعلی بن مملک سے مروی ہے کہ انہوں زوجۂ رسول سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رات کی نماز کے بارے میں دریافت کیا: انہوں نے جواب دیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عشاء کی نماز ادا کرنے کے بعد نوافل ادا فرماتے، اس کے بعد رات کو جس قدر اللہ توفیق دیتا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز ادا فرماتے۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جائے نماز سے ہٹ کرتقریباً اتنی دیر سو جاتے جتنی دیر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیام کیا ہوتا۔ پھر نیند سے بیدار ہو کر اتنی ہی دیر پھر قیام کرتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نماز کا یہ سلسلہ صبح تک جاری رہتا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11362
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالةيعلي بن مملك، اخرجه عبد الرزاق: 4709، وابن حبان: 2639 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27082»