الفتح الربانی
العادات المباركة— عادات مبارکہ
بَابُ مَا جَاءَ فِي نَوْمِهِ صلى الله عليه وسلم وَ فِرَاشِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى سَرِيرٍ مُرْمَلٍ بِشَرِيطٍ وَتَحْتَ رَأْسِهِ وَسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ فَدَخَلَ عَلَيْهِ نَفَرٌ مِنْ أَصْحَابِهِ وَدَخَلَ عُمَرُ فَانْحَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ انْحِرَافَةً فَلَمْ يَرَ عُمَرُ بَيْنَ جَنْبِهِ وَبَيْنَ الشَّرِيطِ ثَوْبًا وَقَدْ أَثَّرَ الشَّرِيطُ بِجَنْبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَكَى عُمَرُ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ“ قَالَ وَاللَّهِ إِلَّا أَنْ أَكُونَ أَعْلَمَ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ وَهُمَا يَعْبَثَانِ فِي الدُّنْيَا فِيمَا يَعْبَثَانِ فِيهِ وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ“ قَالَ بَلَى قَالَ ”فَإِنَّهُ كَذَلِكَ“سیدناسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے تنوں سے بنی ہوئی چار پائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر کے نیچے چمڑے کا ایک تکیہ تھا جس میں کھجور کے پتے بھرے ہوئے تھے۔ چند صحابہ اسی عالم میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں آئے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی تشریفلائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلو بدلا تو عمر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو اور چار پائی کے بان کے درمیان کوئی کپڑا نظر نہ آیا۔ اور بان کے نشانات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو پر ثبت تھے۔ یہ منظر دیکھ کر عمر رضی اللہ عنہ رونے لگے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے پوچھا: عمر! تجھے کس چیز نے رلایا ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں اس لیے رو رہا ہوں کہ میں جانتا ہوں کہ آپ اللہ کے ہاں کسریٰ اور قیصر کے مقابلے میں بہت زیادہ معزز ہیں۔ وہ دنیا میں خوب عیش و عشرت کی زندگی گزارتے ہیں اور اللہ کے رسول! آپ کی وہ حالت ہے جو میں دیکھ رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات پر راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟ انھوں نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ نے فرمایا: تو پھر بات ایسے ہی ہے۔