الفتح الربانی
العادات المباركة— عادات مبارکہ
بَابُ مَا جَاءَ فِي نَوْمِهِ صلى الله عليه وسلم وَ فِرَاشِهِ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نیند اور بستر کا تذکرہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ ”مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا“سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم پر اثر کیا ہوا تھا، اسی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ منظر دیکھ کر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ذرا نرم بستر بنوالیں تو بہتر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی سی ہے، جو سخت گرمی میں سفر کرے اور دن کے کسی وقت کسی درخت کے سائے میں آرام کرے ۔پھر اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔