حدیث نمبر: 11332
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ عَلَى حَصِيرٍ قَدْ أَثَّرَ فِي جَنْبِهِ فَقَالَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَوِ اتَّخَذْتَ فِرَاشًا أَوْثَرَ مِنْ هَذَا فَقَالَ ”مَا لِي وَلِلدُّنْيَا مَا مَثَلِي وَمَثَلُ الدُّنْيَا إِلَّا كَرَاكِبٍ سَارَ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ فَاسْتَظَلَّ تَحْتَ شَجَرَةٍ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ثُمَّ رَاحَ وَتَرَكَهَا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک چٹائی پر لیٹے ہوئے تھے اور اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے جسم پر اثر کیا ہوا تھا، اسی حالت میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ تشریف لائے، یہ منظر دیکھ کر انھوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! اگرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے ذرا نرم بستر بنوالیں تو بہتر ہو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے دنیا سے کیا تعلق؟ میری اور دنیا کی مثال اس سوار کی سی ہے، جو سخت گرمی میں سفر کرے اور دن کے کسی وقت کسی درخت کے سائے میں آرام کرے ۔پھر اسے وہیں چھوڑ کر آگے روانہ ہو جائے۔

وضاحت:
فوائد: … یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سادگی اور دنیوی آسائشوں اور ساز و سامان سے دوری تھی، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آخرت کا کوئی پہلو متأثرنہ ہو سکے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / العادات المباركة / حدیث: 11332
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده صحيح، اخرجه ابن حبان: 6352، والطبراني: 11898، والحاكم: 4/ 309، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2744 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2744»