الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ قِصَّةِ الْمَرْأَةِ صَاحِبَةِ الْمَزَادَتَيْنِ باب: دو مشکیزوں والی خاتون کا واقعہ
حَدَّثَنَا يَحْيَى عَنْ عَوْفٍ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَإِنَّا أَسْرَيْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ فَلَا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا قَالَ فَمَا أَيْقَظَنَا إِلَّا حَرُّ الشَّمْسِ وَكَانَ أَوَّلَ مَنِ اسْتَيْقَظَ فُلَانٌ ثُمَّ فُلَانٌ كَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الرَّابِعُ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ نُوقِظْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ لِأَنَّا لَا نَدْرِي مَا يُحْدِثُ أَوْ يَحْدُثُ لَهُ فِي نَوْمِهِ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ وَكَانَ رَجُلًا أَجْوَفَ جَلِيدًا قَالَ فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ لِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا الَّذِي أَصَابَهُمْ فَقَالَ لَا ضَيْرَ أَوْ لَا يَضِيرُ ارْتَحِلُوا فَارْتَحَلَ فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ وَنُودِيَ بِالصَّلَاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ فَلَمَّا انْفَتَلَ مِنْ صَلَاتِهِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ مَا مَنَعَكَ يَا فُلَانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ وَلَا مَاءَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاشْتَكَى إِلَيْهِ النَّاسُ الْعَطَشَ فَنَزَلَ فَدَعَا فُلَانًا كَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ وَدَعَا عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ اذْهَبَا فَابْغِيَا لَنَا الْمَاءَ قَالَ فَانْطَلَقَا فَيَلْقَيَانِ امْرَأَةً بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا فَقَالَا لَهَا أَيْنَ الْمَاءُ فَقَالَتْ عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ قَالَ فَقَالَا لَهَا انْطَلِقِي إِذًا قَالَتْ إِلَى أَيْنَ قَالَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ قَالَا هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ فَانْطَلِقِي إِذًا فَجَاءَا بِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَحَدَّثَاهُ الْحَدِيثَ فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا فَأَطْلَقَ الْعَزَالِيَ وَنُودِيَ فِي النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا فَسَقَى مَنْ شَاءَ وَاسْتَقَى مَنْ شَاءَ وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ قَالَ وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ مَا يُفْعَلُ بِمَائِهَا قَالَ وَأَيْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْأَةً مِنْهَا حِينَ ابْتَدَأَ فِيهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اجْمَعُوا لَهَا فَجَمَعَ لَهَا مِنْ بَيْنَ عَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسُوَيْقَةٍ حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا وَوَضَعُوا الثَّوْبَ بَيْنَ يَدَيْهَا فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تَعْلَمِينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَاكِ مِنْ مَائِكِ شَيْئًا وَلَكِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ هُوَ سَقَانَا قَالَ فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ فَقَالُوا مَا حَبَسَكِ يَا فُلَانَةُ فَقَالَتْ الْعَجَبُ لَقِينِي رَجُلَانِ فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ الصَّابِئُ فَفَعَلَ بِمَائِي كَذَا وَكَذَا لِلَّذِي قَدْ كَانَ فَوَاللَّهِ إِنَّهُ لَأَسْحَرُ مِنْ بَيْنِ هَذِهِ وَهَذِهِ قَالَتْ بِأُصْبُعَيْهَا الْوُسْطَى وَالسَّبَّابَةِ فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ يَعْنِي السَّمَاءَ وَالْأَرْضَ أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ حَقًّا قَالَ وَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَا حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ وَلَا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِ فَقَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا مَا أَرَى أَنَّ هَؤُلَاءِ الْقَوْمَ يَدَعُونَكُمْ عَمْدًا فَهَلْ لَكُمْ فِي الْإِسْلَامِ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِسیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم راہ تھے، ہم ساری رات چلتے رہے، یہاں تک کہ رات کے آخری حصے میں ہم ایسی کیفیت میں چلے گئے، جس سے زیادہ پسندیدہ کیفیت مسافر کی نظر میں اور کوئی نہیں ہوتییعنی ہم سو گئے۔ ہمیں سورج کی گرمی نے بیدار کیا، سب سے پہلے فلاں اور اس کے بعد فلاں آدمی بیدار ہوا۔ ابو رجاء (راوی) ان کے نام ذکر کیا کرتے تھے لیکن ان کے شاگرد عوف کویہ نام بھول گئے۔ ان کے بعد چوتھے نمبر پر سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے، معمول یہ تھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب سوئے ہوتے تو ہم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بیدا ر نہ کرتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود بیدار نہ ہو جائیں۔ کیونکہ ہمیں یہ معلوم نہ ہو تا تھا کہ نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیا کیفیت در پیش ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے لوگوں کو پیش آمدہ صورت حال ملاحظہ کی، وہ بلند آواز اور بہادر آدمی تھے۔ انہوں نے اللہ اکبر کہتے ہوئے اپنی آواز بلندی کی۔ یہاں تک کہ ان کی آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوگئے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہوئے تو صحابہ نے اپنے ساتھ پیش آمدہ صورت حال کا شکوہ کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی بات نہیں، اب چلو۔ وہاں سے روانہ ہو کرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تھوڑی دور جا کر رک گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وضو کا پانی طلب فرما کر وضو کیا، نماز کے لیے اذان کہی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کو نمازپڑھائی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہو کر مڑے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک آدمی کو دیکھا جو الگ تھلگ بیٹھا تھا، اس نے لوگوں کے ساتھ مل کر نماز ادا نہ کی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: اے فلاں! تجھے لوگوں کے ساتھ نماز ادا کرنے سے کس چیز نے منع کیا؟ اس نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! مجھے جنابت کا عارضہ پیش آگیا ہے اور غسل کے لیے پانی موجود نہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم مٹی استعمال کر لو (یعنی مٹی سے تیمم کر لو)۔ تمہارے لیےیہی کافی ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے روانہ ہوئے ۔ لوگوں نے پیاس کی شکایت کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سواری سے اتر کر سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ایک آدمی کو بلایا۔ راوی حدیث ابو رجاء اس کا نام بیان کیا کرتے تھے، لیکن ان کے شاگرد عوف بھول گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں سے فرمایا: تم دونوں جا کر ہمارے لیے پانی تلاش کر کے لائو۔ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ دونوں چلے گئے۔ ان کی ایک عورت سے ملاقات ہوئی, وہ اپنے اونٹ پر پانی کے دو مشکیزے لادے جا رہی تھی۔ انہو ںنے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں سے ملے گا؟ وہ بولی: پانییہاں سے بہت دور ہے, میں کل اس وقت سے یہ پانی لے کر چلی ہوں اور ابھی تک سفر میں ہوں, ہمارے مرد موجود نہیں ہیں۔ انہوں نے اس سے کہا: اچھا تو پھر ہمارے ساتھ چلو۔ وہ بولی: کہاں؟ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف۔ وہ کہنے لگی: آیا اس شخص کی طرف جسے صابی(لا مذہب اور لادین) کہا جاتا ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں وہ وہی ہے جسے تو اس طرح سمجھ رہی ہے، پس اب تو چل۔ وہ اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لے آئے اور سارا واقعہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گوش گزار کیا۔ صحابہ نے اس خاتون کو سواری سے اترنے کو کہا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک برتن منگوا کر مشکیزوں کے منہ کھول کر برتن میں پانی انڈیلا اور لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ پانی پیو اور جانوروں کو پلاؤ۔جس نے پینا تھا اس نے پی لیااور جس نے جانوروں کو پلانا تھا پلالیا۔ آخر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس آدمی کو بھی پانی کا ایک برتن دیا جسے جنابت کا عارضہ لاحق ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم جا کر یہ پانی اپنے اوپر بہا لو، یعنی غسل کر لو۔ وہ خاتون کھڑییہ سارے مناظر دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ اللہ کی قسم! اس خاتون کو جب جانے کی اجازت دی گئی تو ہمیںیوں لگ رہا تھا کہ اس کے مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے دینے کے لیے کچھ سامان جمع کرو۔ صحابہ نے اس کے لیے عجوہ کھجور، آٹا اور ستو وغیرہ کافی کچھ جمع کر دیا،یہ سارا سامان ایک کپڑے میں ڈالااور عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے یہ کپڑا اس کے آگے رکھ دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ کی قسم!تم جانتی ہو کہ ہم نے تیرے پانی میں ذرہ بھر بھی کمی نہیں کی۔ ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے پینے کے لیے پانی مہیا کیاہے۔ وہ عورت اپنے خاندان میںواپس گئی، وہ کافی لیٹ ہو چکی تھی، اس کے گھر والوںنے تاخیر کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا کہ ایک عجیب واقعہ پیش آگیا۔ مجھے دو آدمی ملے۔ وہ مجھے اس آدمی کے پاس گئے جس صابی (لا دین و لا مذہب) کہا جاتا ہے ۔ اس نے تو میرے پانی کے ساتھ یہیہ کیا۔ اس نے وہ سارا واقعہ بیان کیا جو پیش آ چکا تھا۔ اس نے اپنی درمیانی اور شہادت والی انگلی کو آسمان کی طرف اٹھا کر کہا: اللہ کی قسم! وہ یا تو زمین و آسمان کے درمیان موجود لوگوں میں سب سے بڑا جادو گر ہے یا پھرواقعی اللہ کا رسول ہے۔ عمران رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مسلمان اس علاقہ کے مشرکین پر حملہ آور ہوئے۔ لیکن جس قبیلہ کی وہ خاتون تھی اس پر حملہ نہ کرتے تھے۔ وہ ایک دن اپنی قوم سے کہنے لگی: میرا خیال ہے کہ یہ مسلمان جان بوجھ کر تم سے صرف نظر کرتے ہیں۔ کیا تم اسلام قبول نہیں کرلیتے؟ چنانچہ قبیلے کے لوگوں نے اس کی بات مان لی اور وہ دائرۂ اسلام میں داخل ہوگئے۔
عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ أَرْعَى غَنَمًا لِعُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ فَمَرَّ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا غُلَامُ هَلْ مِنْ لَبَنٍ قَالَ قُلْتُ نَعَمْ وَلَكِنِّي مُؤْتَمَنٌ قَالَ فَهَلْ مِنْ شَاةٍ لَمْ يَنْزُ عَلَيْهَا الْفَحْلُ فَأَتَيْتُهُ بِشَاةٍ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَهُ فِي إِنَاءٍ فَشَرِبَ وَسَقَى أَبَا بَكْرٍ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ قَالَ ثُمَّ أَتَيْتُهُ بَعْدَ هَذَا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ فَمَسَحَ رَأْسِي وَقَالَ يَرْحَمُكَ اللَّهُ فَإِنَّكَ غُلَيِّمٌ مُعَلَّمٌ وَفِي رِوَايَةٍ ثُمَّ أَتَاهُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِصَخْرَةٍ مُنْقَعِرَةٍ فَاحْتَلَبَ فِيهَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَكْرٍ ثُمَّ شَرِبْتُ ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ اقْلِصْ فَقَلَصَ فَأَتَيْتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ فَقُلْتُ عَلِّمْنِي مِنْ هَذَا الْقَوْلِ قَالَ إِنَّكَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ قَالَ فَأَخَذْتُ مِنْ فِيهِ سَبْعِينَ سُورَةً لَا يُنَازِعُنِي فِيهَا أَحَدٌسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابو معیط کی بکریاں چرایا کرتا تھا، ایک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لڑکے! کیا دودھ موجود ہے؟ میں نے کہا: جی ہاں، لیکن مجھے اس مال پر امین بنایا گیا ہے (لہذا میں اپنے مالک کی اجازت کے بغیر نہیں دے سکتا)، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا کوئی ایسی بکری ہے، جس کی بکرے سے جفتی نہ کرائی گئی ہو؟ پس میں اس قسم کی ایک بکری لے آیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھن کو چھوا تو اس میں دودھ اتر آیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو ایک برتن میں دوہا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود بھی پیا اور سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا۔ پس وہ سکڑ گیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اس دین میں کچھ تعلیم دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے سر پہ ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تعالی تجھ پر رحم کرے، تو تو پیارا سا تعلیمیافتہ لڑکا ہے۔ ایک روایت میں ہے: پھر سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پیالہ نما پتھر لے کر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں دودھ دوہا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اور میں نے دودھ پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا۔ پس وہ سکڑ گیا۔ اس کے بعد میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے اس دین میں کچھ سکھا دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو تو سکھایا ہوا لڑکا ہے۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں سیکھی تھیں، اس میں کسی کا مجھ سے کوئی جھگڑا نہیں تھا۔
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ سَمِعْتُ شَيْخًا مِنْ قَيْسٍ يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُ قَالَ جَاءَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَنَا بَكْرَةٌ صَعْبَةٌ لَا نَقْدِرُ عَلَيْهَا قَالَ فَدَنَا مِنْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَمَسَحَ ضَرْعَهَا فَحَفَلَ فَاحْتَلَبَ قَالَ وَلَمَّا مَاتَ أَبِي جَاءَ وَقَدْ شَدَدْتُهُ فِي كَفَنِهِ وَأَخَذْتُ سُلَّاءَةً فَشَدَدْتُ بِهَا الْكَفَنَ فَقَالَ لَا تُعَذِّبْ أَبَاكَ بِالسُّلَّاءِ قَالَهَا حَمَّادٌ ثَلَاثًا قَالَ ثُمَّ كَشَفَ عَنْ صَدْرِهِ وَأَلْقَى السُّلَّاءَ ثُمَّ بَزَقَ عَلَى صَدْرِهِ حَتَّى رَأَيْتُ رُضَاضَ بُزَاقِهِ عَلَى صَدْرِهِحمادبن سلمہ کہتے ہیں: میں نے قیس قبیلہ کے ایک بزرگ سے سنا، وہ اپنے باپ سے بیان کر رہے تھے کہ انھوں نے کہا: نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، جبکہ ہماری ایک سرکش اونٹنی تھی، ہم اس کو قابو نہیں کر سکتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے قریب ہوئے، اس کے تھنوں کو چھوا، پس وہ تو دودھ سے بھر گئے، پھرآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دودھ دوہا۔ جب میرے باپ فوت ہوئے تو میں نے ان کو ان کے کفن میں لپیٹا اور کھجور کے درخت کا کانٹا لے کر اس کے ذریعے ان کے کفن کو باندھ دیا، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپ کو اس کانٹے کے ذریعے تکلیف نہ دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سینے سے کپڑا ہٹایا، جھلی کو پھینک دیا اور ان کے سینے پر تھوکا،یہاں تک کہ میں نے باقاعدہ ان کے سینے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تھوک کے قطرے دیکھے۔
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدٍ الْفَائِشِيِّ عَنْ ابْنَةٍ لِخَبَّابٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ خَرَجَ خَبَّابٌ فِي سَرِيَّةٍ فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَتَعَاهَدُنَا حَتَّى كَانَ يَحْلُبُ عَنْزًا لَنَا قَالَتْ فَكَانَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَطْفَحَ أَوْ يَفِيضَ فَلَمَّا رَجَعَ خَبَّابٌ حَلَبَهَا فَرَجَعَ حِلَابُهَا إِلَى مَا كَانَ فَقُلْنَا لَهُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَحْلُبُهَا حَتَّى يَفِيضَ وَقَالَ مَرَّةً حَتَّى تَمْتَلِئَ فَلَمَّا حَلَبْتَهَا رَجَعَ حِلَابُهَاسیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ کی بیٹی سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میرے باپ ایک لشکر میں چلے گئے، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارا بہت خیال رکھتے تھے، یہاں تک کہ ہمارے لیے ہماری بکری بھی دوہ دیتے تھے، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو دوہتے تھے تو دودھ برتن سے بہہ پڑتا تھا، لیکن جب سیدنا خباب رضی اللہ عنہ لوٹے اور اسی بکری سے دودھ دوہا تو پہلے کی طرح دودھ کم ہو گیا، ہم نے کہا: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس بکری کا دودھ دوہتے تھے تو دودھ بہہ پڑتا تھا، لیکن برتن بھر جاتا تھا، لیکن جب آپ نے دودھ دوہا ہے تو یہ دودھ واپس چلا گیا ہے۔
حَدَّثَنَا رَوْحٌ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ سَمِعْتُ هِشَامَ بْنَ زَيْدٍ قَالَ سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يُحَدِّثُ أَنَّ يَهُودِيَّةً جَعَلَتْ سُمًّا فِي لَحْمٍ ثُمَّ أَتَتْ بِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَكَلَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّهَا جَعَلَتْ فِيهِ سُمًّا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَا نَقْتُلُهَا قَالَ لَا قَالَ فَجَعَلْتُ أَعْرِفُ ذَلِكَ فِي لَهَوَاتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایکیہودی خاتون نے گوشت میں زہر ملایا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے پیش کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ گوشت کھایا اور فرمایا: اس نے اس کھانے میں زہر ملایا ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کوے میں اس زہر کے اثر کو پہچانتا رہتا تھا۔
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ هَاجَتِ السَّمَاءُ مِنْ تِلْكَ اللَّيْلَةِ فَلَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِصَلَاةِ الْعِشَاءِ الْآخِرَةِ بَرَقَتْ بَرْقَةٌ فَرَأَى قَتَادَةَ بْنَ النُّعْمَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ مَا السُّرَى يَا قَتَادَةُ قَالَ عَلِمْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنَّ شَاهِدَ الصَّلَاةِ قَلِيلٌ فَأَحْبَبْتُ أَنْ أَشْهَدَهَا قَالَ فَإِذَا صَلَّيْتَ فَاثْبُتْ حَتَّى أَمُرَّ بِكَ فَلَمَّا انْصَرَفَ أَعْطَاهُ الْعُرْجُونَ وَقَالَ خُذْ هَذَا فَسَيُضِيءُ أَمَامَكَ عَشْرًا وَخَلْفَكَ عَشْرًا فَإِذَا دَخَلْتَ الْبَيْتَ وَتَرَاءَيْتَ سَوَادًا فِي زَاوِيَةِ الْبَيْتِ فَاضْرِبْهُ قَبْلَ أَنْ يَتَكَلَّمَ فَإِنَّهُ شَيْطَانٌ قَالَ فَفَعَلَ فَنَحْنُ نُحِبُّ هَذِهِ الْعَرَاجِينَ لِذَلِكَسیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رات کو آسمان بادو باراں والا ہو گیا، جب نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز عشا کے لیے گئے اور بجلی چمکی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ کو دیکھ لیا اور پوچھا: قتادہ! کون سی چیز تم کو اس وقت میں لے آئی ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرا خیال تھا کہ نمازی کم ہوں گے، اس لیے میں نے چاہا کہ چلو میں تو پہنچ جاؤں۔یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم نماز پڑھ لو تو میرے آنے تک اپنی جگہ پر ہی بیٹھے رہنا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نماز سے فارغ ہوئے تو ان کو ایک کھجور کی شاخ دی اور فرمایا: یہ شاخ لے لو، یہ تمہارے آگے اور پیچھے دس دس (ہاتھ) تک روشنی پیدا کرے گی، جب تم گھر میں داخل ہو جاؤ اور گھر کے ایک کونے میں کوئی وجود دیکھ لو تو کلام کرنے سے پہلے اس کو مارنا، کیونکہ وہ شیطان ہو گا۔ پس انھوں نے ایسے ہی کیا، ہم اسی وجہ سے ان شاخوں اور چھڑیوں کو پسند کرتے ہیں۔
ذہن نشین کر لیں کہ فرائض و واجبات اور مستحبات کی ادائیگی اور ممنوعات و محرّمات سے اجتناب دنیا و آخرت میں باعث ِ عزت و شرف ہے اور اسی چیز میں انجام بخیر و عافیت ہے۔
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَهْلِي عَنْ أَبِي رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءٍ فَشَرِبَ مِنْهُ ثُمَّ مَجَّ فِي الدَّلْوِ ثُمَّ صَبَّ فِي الْبِئْرِ أَوْ شَرِبَ مِنَ الدَّلْوِ ثُمَّ مَجَّ فِي الْبِئْرِ فَفَاحَ مِنْهَا مِثْلُ رِيحِ الْمِسْكِعبد الجبار بن وائل سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے اہل نے مجھے بیان، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے باپ نے بیان کیا کہ پانی کا ایک ڈول نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پیا اور پھر ڈول میں کلی کی اور وہ پانی کنویں میں پھینک دیا،یا اس طرح ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ڈول سے پانی پیا اور کنویں میں کلی کی، پس اس کنویں سے کستوری کی طرح کی خوشبو پھیلنے لگی۔
عَنْ عَبْدِ الْجَبَّارِ بْنِ وَائِلٍ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِدَلْوٍ مِنْ مَاءِ زَمْزَمَ فَتَمَضْمَضَ فَمَجَّ فِيهِ أَطْيَبَ مِنَ الْمِسْكِ أَوْ قَالَ مِسْكٌ وَاسْتَنْثَرَ خَارِجًا مِنَ الدَّلْوِ۔(دوسری سند) نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک ڈول میں زمزم کا پانی لایا گیا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے کلی کی اور وہ پانی اسی ڈول میں پھینکا، پس وہ تو کستوری سے زیادہ خوشبودار تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس ڈول سے باہر ناک جھاڑا تھا۔
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ عَسَّالٍ الْمُرَادِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَهُ فِي مَسِيرَةٍ إِذْ نَادَاهُ أَعْرَابِيٌّ بِصَوْتٍ جَهْوَرِيٍّ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ فَقُلْنَا وَيْحَكَ اغْضُضْ مِنْ صَوْتِكَ فَإِنَّكَ قَدْ نُهِيتَ عَنْ ذَلِكَ فَقَالَ وَاللَّهِ لَا أَغْضُضُ مِنْ صَوْتِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَاءَ وَأَجَابَهُ عَلَى نَحْوٍ مِنْ مَسْأَلَتِهِ وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً وَأَجَابَهُ نَحْوًا مِمَّا تَكَلَّمَ بِهِ فَقَالَ أَرَأَيْتَ رَجُلًا أَحَبَّ قَوْمًا وَلَمَّا يَلْحَقْ بِهِمْ قَالَ هُوَ مَعَ مَنْ أَحَبَّسیدنا صفوان بن عسال مرادی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں تھے، اچانک ایک بدّو نے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلند آواز سے پکارا اور کہا: اے محمد! ہم نے اس سے کہا: او تو ہلاک ہو جائے، اپنی آواز کو پست رکھ، تجھے اس طرح آواز بلند کرنے سے منع کیا گیا ہے، لیکن اس نے کہا: اللہ کی قسم! میں تو اپنی آواز کو پست نہیں کروں گا، اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: میں حاضر ہوں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سوال کے انداز کے مطابق ہی جواب دیا، سفیان راوی نے کہا: جیسے اس نے بات کی تھی، اسی طرح کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جواب دیا، پھر اس نے کہا: اس آدمی کے بارے میں آپ کا خیال ہے، جو کچھ لوگوں سے محبت تو کرتا ہے، لیکن وہ ان کو ملا نہیں ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ اسی آدمی کے ساتھ ہو گا، جس سے اس کو محبت ہو گی۔
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پست آواز میں بات کرنا، اس مسئلہ کے لیے دیکھیں حدیث نمبر (۸۷۵۸) والا باب۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ بَيْتَ أُمِّ سُلَيْمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَيَنَامُ عَلَى فِرَاشِهَا وَلَيْسَتْ فِيهِ قَالَ فَجَاءَ ذَاتَ يَوْمٍ فَنَامَ عَلَى فِرَاشِهَا فَأُتِيَتْ فَقِيلَ لَهَا هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَائِمٌ فِي بَيْتِكِ عَلَى فِرَاشِكِ قَالَ فَجَاءَتْ وَقَدْ عَرِقَ وَاسْتَنْقَعَ عَرَقُهُ عَلَى قِطْعَةِ أَدِيمٍ عَلَى الْفِرَاشِ قَالَ فَفَتَحَتْ عَتِيدَتَهَا قَالَ فَجَعَلَتْ تُنَشِّفُ ذَلِكَ الْعَرَقَ فَتَعْصِرُهُ فِي قَوَارِيرِهَا فَفَزِعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا تَصْنَعِينَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ نَرْجُو بَرَكَتَهُ لِصِبْيَانِنَا قَالَ أَصَبْتِسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جاتے اور ان کے بستر پر سو جاتے تھے، جبکہ وہ اس میں نہیں ہوتی تھیں، ایک دن ایسے ہی ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گئے اور ان کے بستر پر سو گئے، کسی نے آ کر سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو خبر دی کہ یہ نبی ٔ کریم تمہارے گھر میں تمہارے بستر پر سوئے ہوئے ہیں، پس وہ آئیں اور دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا ہوا ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ بستر پر چمڑے کے ایک ٹکڑے پر نچڑ رہا ہے، انھوں نے اپنا بیوٹی باکس کھولا اور اس پسینے کو چوس کر اس کو اپنی شیشیوں میں نچوڑنے لگیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھبرا گئے اور پوچھا: او ام سلیم! کیا کر رہی ہو؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم اپنے بچوں کے لیے اس کی برکت کی امید رکھتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم نے درست کیا ہے۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَ دَخَلَ عَلَيْنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عِنْدَنَا فَعَرِقَ وَجَاءَتْ أُمِّي بِقَارُورَةٍ فَجَعَلَتْ تَسْلُتُ الْعَرَقَ فِيهَا فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا أُمَّ سُلَيْمٍ مَا هَذَا الَّذِي تَصْنَعِينَ فَقَالَتْ هَذَا عَرَقُكَ نَجْعَلُهُ فِي طِيبِنَا وَهُوَ مِنْ أَطْيَبِ الطِّيبِسیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمارے ہاں قیلولہ کیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسینہ آیا تو میری ماں ایک شیشی لے کر آئیں اور اس میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا پسینہ جمع کرنے لگیں، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بیدار ہو گئے اور فرمایا: ام سلیم! یہ کیا کر رہی ہو؟ انھوں نے کہا: یہ آپ کو پسینہ ہے، ہم اس کو اپنی خوشبو میں مِکس کریں گے، جبکہ یہ پسینہ تو سب سے پاکیزہ اور اچھی خوشبو ہے۔
حَدَّثَنَا حَسَنٌ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ الْحَجَّامُ رَأْسَهُ أَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ شَعَرَ أَحَدِ شِقَّيْ رَأْسِهِ بِيَدِهِ فَأَخَذَ شَعَرَهُ فَجَاءَ بِهِ إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَ فَكَانَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ تَدُوفُهُ فِي طِيبِهَاسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارادہ کیا کہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بال مونڈے تو سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ نے سر مبارک کے ایک جانب کے بال پکڑے اور سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس لے آئے، وہ ان کو اپنی خوشبو میں ملایا کرتی تھیں۔
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدٍ يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ عَنْ أَنَسٍ قَالَ لَمَّا حَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ بِمِنًى أَخَذَ شِقَّ رَأْسِهِ الْأَيْمَنَ بِيَدِهِ فَلَمَّا فَرَغَ نَاوَلَنِي فَقَالَ ”يَا أَنَسُ انْطَلِقْ بِهَذَا إِلَى أُمِّ سُلَيْمٍ“ فَلَمَّا رَأَى النَّاسُ مَا خَصَّهَا بِهِ مِنْ ذَلِكَ تَنَافَسُوا فِي الشِّقِّ الْآخَرِ هَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ وَهَذَا يَأْخُذُ الشَّيْءَ قَالَ مُحَمَّدٌ فَحَدَّثْتُهُ عَبِيدَةَ السَّلْمَانِيَّ فَقَالَ لَأَنْ يَكُونَ عِنْدِي مِنْهُ شَعَرَةٌ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كُلِّ صَفْرَاءَ وَبَيْضَاءَ أَصْبَحَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ وَفِي بَطْنِهَا۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منی میں اپنا سر مبارک منڈوائے تو سر کی دائیں جانب کے بال لیے اور مجھے پکڑا کر فرمایا: انس! یہ بال ام سلیم کے پاس لے جاؤ۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خاص کر کے ام سلیم کو یہ بال بھیجے ہیں تو وہ سر کی دوسری جانب کے بالوں کی رغبت کرنے لگے، کچھ بال کسی نے لیے اور کچھ کسی نے۔ محمد بن سیرین کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث عبیدہ سلمانی کو بیان کی تو انھوں نے کہا: اگر میرے پاس ان میں سے ایک بال بھی ہوتا تو وہ مجھے اس سارے سونے اور چاندی سے محبوب ہوتا، جو زمینکے اوپر والی سطح اور اس کے اندر پایا جاتا ہے۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالْحَلَّاقُ يَحْلِقُهُ وَقَدْ أَطَافَ بِهِ أَصْحَابُهُ مَا يُرِيدُونَ أَنْ تَقَعَ شَعَرَةٌ إِلَّا فِي يَدِ رَجُلٍسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا، جبکہ حجام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال مونڈ رہا تھا، صحابہ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھیرے میں لے رکھا تھا، وہ چاہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جو بال بھی گرے، اس کو کوئی نہ کوئی آدمی پکڑ لے۔
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ أَنَّ أَبَاهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ شَهِدَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْمَنْحَرِ وَرَجُلًا مِنْ قُرَيْشٍ وَهُوَ يَقْسِمُ أَضَاحِيَّ فَلَمْ يُصِبْهُ مِنْهَا شَيْءٌ وَلَا صَاحِبَهُ فَحَلَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ فِي ثَوْبِهِ فَأَعْطَاهُ فَقَسَمَ مِنْهُ عَلَى رِجَالٍ وَقَلَّمَ أَظْفَارَهُ فَأَعْطَاهُ صَاحِبَهُ قَالَ فَإِنَّهُ لَعِنْدَنَا مَخْضُوبٌ بِالْحِنَّاءِ وَالْكَتَمِ يَعْنِي شَعْرَهُسیدنا عبد اللہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ وہ قربان گاہ میں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ایک قریشی آدمی کے پاس موجود تھے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قربانیاں کر رہے تھے، لیکن نہ قربانی ان کو ملی اور نہ ان کے انصاری ساتھی کو، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک کپڑے میں اپنا سر منڈوایا تو وہ بال ان کو دیئے اور انھوں نے وہ بال مردوں میں تقسیم کر دیئے، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ناخن تراشے تو وہ ان کے ساتھی کو دیئے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ بال ہمارے پاس موجود ہیں، وہ مہندی اور وسمہ سے رنگے ہوئے تھے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْ فِيهَا وَهُوَ قَائِمٌ قَالَ فَقَطَعَتْ أُمُّ سُلَيْمٍ فَمَ الْقِرْبَةِ فَهُوَ عِنْدَنَاسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور جبکہ گھر میں لٹکا ہوا ایک مشکیزہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا، سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا نے مشکیزے کا منہ کاٹ لیا، اب وہ ہمارے پاس موجود ہے۔
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسٍ عَنْ أُمِّهِ قَالَتْ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَفِي الْبَيْتِ قِرْبَةٌ مُعَلَّقَةٌ فَشَرِبَ مِنْهَا قَائِمًا فَقَطَعْتُ فَاهَا وَإِنَّهُ لَعِنْدِي۔(دوسری سند) سیدنا انس رضی اللہ عنہ اپنے ماں سے روایت کرتے ہیں، وہ کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے اور گھر میں ایک مشکیزہ لٹک رہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کھڑے ہو کر اس سے پانی پیا اور اس نے مشکیزہ کا منہ کاٹ لیا، اب وہ میرے پاس موجود ہے۔
(ملاحظہ ہو: جامع ترمذی: ۱۸۹۲، ابن ماجہ: ۳۴۲۳، مسند احمد: ۲۷۴۴۸)
عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ رَأَيْتُ قُبَّةً حَمْرَاءَ مِنْ أَدَمٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَأَيْتُ بِلَالًا خَرَجَ بِوَضُوءٍ لِيَصُبَّهُ فَابْتَدَرَهُ النَّاسُ فَمَنْ أَخَذَ مِنْهُ شَيْئًا تَمَسَّحَ بِهِ وَمَنْ لَمْ يَجِدْ مِنْهُ شَيْئًا أَخَذَ مِنْ بَلَلِ يَدِ صَاحِبِهِسیدنا سیدنا ابو جحیفہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے چمڑے کا سرخ رنگ کا چھوٹا سا خیمہ دیکھا، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے نصب کیا گیا تھا، پھر میں نے سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کو دیکھا، وہ وضو کا پانی لائے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ڈالیں (اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وضو کریں)، پس لوگ (وضو والا پانی سے تبرک حاصل کرنے کے لیے) لپکے، جس کو کچھ پانی مل گیا، اس نے اس کو اپنے جسم پر مل دیا اور جو آدمی پانی حاصل نہ کر سکا، اس نے اپنے ساتھی کے ہاتھ کی تری سے پانی لینا شروع کر دیا۔
عَنْ أَنَسٍ قَالَ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى الْغَدَاةَ جَاءَ خَدَمُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ بِآنِيَتِهِمْ فِيهَا الْمَاءُ فَمَا يُؤْتَى بِإِنَاءٍ إِلَّا غَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَرُبَّمَا جَاءُوهُ فِي الْغَدَاةِ الْبَارِدَةِ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَاسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فجر کی نماز ادا کر لیتے تو اہل مدینہ کے نوکر چاکر برتن لے کر آ جاتے، ان میں پانی ہوتا تھا، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جو برتن بھی لایا جاتا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس میں ہاتھ ڈبو دیتے تھے، بسا اوقات تو ایسے ہوتا کہ لوگ سردی والی صبح کو پانی لے آتے تھے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پھر بھی اپنا ہاتھ ڈبو دیتے تھے۔
عَنْ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِأَنَسٍ يَا أَنَسُ مَسَسْتَ يَدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِكَ قَالَ نَعَمْ قَالَ أَرِنِي أُقَبِّلُهَاجناب ثابت l سے مروی ہے، انھوں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے کہا: اے انس! کیا تم نے اپنے ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ مس کیا ہے؟ انھوں نے کہا: جی ہاں، تو انھوں نے کہا: لیجئے، مجھے وہ دکھاؤ، میں اس کا بوسہ لیتا ہوں۔
حَدَّثَنَا يُونُسُ قَالَ حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ قَالَ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَقَالَ غَيْرُ يُونُسَ ابْنُ رَزِينٍ أَنَّهُ نَزَلَ الرَّبَذَةَ هُوَ وَأَصْحَابٌ لَهُ يُرِيدُونَ الْحَجَّ قِيلَ لَهُمْ هَاهُنَا سَلَمَةُ بْنُ الْأَكْوَعِ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْنَاهُ فَسَلَّمْنَا عَلَيْهِ ثُمَّ سَأَلْنَاهُ فَقَالَ بَايَعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِي هَذِهِ وَأَخْرَجَ لَنَا كَفَّهُ كَفًّا ضَخْمَةً قَالَ فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقَبَّلْنَا كَفَّيْهِ جَمِيعًاجناب عطاف کہتے ہیں: عبد الرحمن بن رزین اپنے ساتھیوں سمیت ربذہ مقام پر اترے، وہ حج کرنے کے لیے جا رہے تھے، ان سے کسی نے کہا کہ اللہ کے رسول کے صحابی سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ یہاں موجود ہیں، وہ کہتے ہیں: پس ہم ان کے پاس آئے، ان کو سلام کہا اور پھر ہم نے ان سے سوالات کیے، انھوں نے کہا: میں نے اس ہاتھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی تھی، پھر انھوں نے اپنا ہاتھ نکالا، ان کی ہتھیلی بڑی تھی، پس ہم نے اٹھ کر ان کی طرف گئے اور ان کی دونوں ہتھیلیوں کا بوسہ لیا۔
عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الْحَسَنِ بْنِ أَيُّوبَ الْحَضْرَمِيِّ قَالَ أَرَانِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُسْرٍ شَامَةً فِي قَرْنِهِ فَوَضَعْتُ إِصْبَعِي عَلَيْهَا فَقَالَ وَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَهُ عَلَيْهَا ثُمَّ قَالَ ”لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا“ قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ وَكَانَ ذَا جُمَّةٍحسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن بسر رضی اللہ عنہ نے اپنے سر کے کنارے پر ایک تل دکھایا، میں نے اپنی انگلی اس پر رکھی، دراصل انھوں نے کہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس تل پر اپنی انگشت ِ مبارک رکھی تھی اور فرمایا تھا کہ تو ضرور ضرور ایک صدی عمر پائے گا۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ لمبے لمبے بالوں والے تھے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ فَأَكَلَ مِنْهُ بَعَثَ بِفَضْلِهِ إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَكَانَ أَبُو أَيُّوبَ يَتَتَبَّعُ أَثَرَ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَيَضَعُ أَصَابِعَهُ حَيْثُ يَرَى أَثَرَ أَصَابِعِهِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ بِصَحْفَةٍ فَوَجَدَ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ فَلَمْ يَذُقْهَا وَبَعَثَ بِهَا إِلَى أَبِي أَيُّوبَ فَلَمْ يَرَ أَثَرَ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ أَرَ فِيهَا أَثَرَ أَصَابِعِكَ قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي وَجَدْتُ مِنْهَا رِيحَ ثُومٍ“ قَالَ لِمَ تَبْعَثُ إِلَيَّ مَا لَا تَأْكُلُ فَقَالَ ”إِنَّهُ يَأْتِينِي الْمَلَكُ“سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس کھانالایا جاتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کھاتے اور بچ جانے والا کھانا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیتے، وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشانات کو تلاش کرتے اور اپنی انگلیاں وہاں رکھتے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کا اثر نظر آتا تھا، ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایک پلیٹ میں کھانا لایا گیا، لیکن جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے لہسن کی بو محسوس کی تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وہ نہیں کھایا اور سارا سیدنا ابو ایوب رضی اللہ عنہ کی طرف بھیج دیا، جب انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے نشان نہیں دیکھے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس کھانے میں آپ کی انگلیوں کے آثار نظر نہیں آ رہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں اس کھانے میں لہسن کی بو محسوس کی ہے ۔ انھوں نے کہا: تو پھر جو چیز آپ خود نہیں کھاتے، وہ میری طرف کیوں بھیجتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک شان یہ ہے کہ میرا پاس فرشتہ آتا ہے۔
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ مَوْلَى أَسْمَاءَ عَنْ أَسْمَاءَ قَالَ أَخْرَجَتْ إِلَيَّ جُبَّةً طَيَالِسَةً عَلَيْهَا لَبِنَةُ شَبْرٍ مِنْ دِيبَاجٍ كِسْرَوَانِيٍّ وَفَرْجَاهَا مَكْفُوفَانِ بِهِ قَالَتْ هَذِهِ جُبَّةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَلْبَسُهَا كَانَتْ عِنْدَ عَائِشَةَ فَلَمَّا قُبِضَتْ عَائِشَةُ قَبَضْتُهَا إِلَيَّ فَنَحْنُ نَغْسِلُهَا لِلْمَرِيضِ مِنَّا يَسْتَشْفِي بِهَامولائے اسماء جناب عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے طیالسی جبہ نکالا، اس کے دامن میں فارسی ریشم کا ٹکڑا لگا ہوا تھا اور اس کے چاک بھی ریشم کے تھے۔ کہا یہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا جبہ تھا،جسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہنا کرتے تھے، یہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس تھا، جب وہ فوت ہوئیں تو میں نے لے لیا تھا، ہم اسے مریض کے لئے پانی میں ڈال کر اس کی برکت سے شفاء طلب کرتے ہیں۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ مَا شَبِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ تِبَاعًا مِنْ خُبْزِ بُرٍّ حَتَّى مَضَى لِسَبِيلِهِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تین دن لگاتار گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ وفات پا گئے۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقِدُونَ فِيهِ نَارًا لَيْسَ إِلَّا التَّمْرُ وَالْمَاءُ إِلَّا أَنْ نُؤْتَى بِاللَّحْمِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں کہ ایسے بھی ہوتا کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل کا ایک ایک مہینہ گزر جاتا، لیکن وہ آگ تک نہیں جلاتے تھے، بس کھجور اور پانی کے علاوہ کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا، البتہ بعض اوقات گوشت آ جاتا تھا۔
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَ يَمُرُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هِلَالٌ وَهِلَالٌ وَهِلَالٌ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتٍ مِنْ بُيُوتِهِ نَارٌ قُلْتُ يَا خَالَةُ عَلَى أَيِّ شَيْءٍ كُنْتُمْ تَعِيشُونَ قَالَتْ عَلَى الْأَسْوَدَيْنِ التَّمْرِ وَالْمَاءِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر ایک چاند، دوسرا چاند اور تیسرا چاندگزر جاتا (یعنی دو تین تین ماہ گزر جاتے تھے) کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھروں میں سے کسی گھر میں آگ نہیں جلائی جاتی تھی۔ عروہ بن زبیر نے کہا: اے خالہ جان! تو پھر تم لوگ کس چیز پر گزارا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: دو سیاہ رنگ کی چیزیںیعنی کھجور اور پانی۔
عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ مَا رَأَى مُنْخُلًا وَلَا أَكَلَ خُبْزًا مَنْخُولًا مُنْذُ بَعَثَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى أَنْ قُبِضَ قُلْتُ كَيْفَ تَأْكُلُونَ الشَّعِيرَ قَالَتْ كُنَّا نَقُولُ أُفٍّسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اس ذات کی قسم جس نے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نہ چھاننی دیکھی اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھانے ہوئے آٹے کی روٹی کھائی، بعثت سے لے کر وفات تک یہی کیفیت رہی۔ عروہ کہتے ہیں: میں نے کہا: تو پھر آپ لوگ جو کیسے کھاتے تھے (یعنی چھاننے کے بغیر جو کی روٹی کیسے کھاتے تھے)؟ انھوں نے کہا: بس آٹے پر پھونک مار کر چھلکا اڑا دیتی تھیں۔
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کے علاوہ دوسرے صحابہ سے اس موضوع سے متعلقہ مروی احادیث والے باب میں یہ حدیث موجو دہے، چند احادیث کے بعد یہ باب آ رہا ہے۔
عَنْ حُمَيْدٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ أَرْسَلَ إِلَيْنَا آلُ أَبِي بَكْرٍ بِقَائِمَةِ شَاةٍ لَيْلًا فَأَمْسَكْتُ وَقَطَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ قَالَتْ أَمْسَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَقَطَعْتُ قَالَتْ تَقُولُ لِلَّذِي تُحَدِّثُهُ هَذَا عَلَى غَيْرِ مِصْبَاحٍ قَالَ قَالَتْ عَائِشَةُ إِنَّهُ لَيَأْتِي عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ الشَّهْرُ مَا يَخْتَبِزُونَ خُبْزًا وَلَا يَطْبُخُونَ قِدْرًا قَالَ حُمَيْدٌ فَذَكَرْتُ لِصَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ فَقَالَ لَا بَلْ كُلُّ شَهْرَيْنِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: ایک رات کو آلِ ابو بکر نے بکری کی ٹانگ ہماری طرف بھیجی، میں نے اس کو پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو کاٹا، یا معاملے ایسے تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پکڑا اور میں نے کاٹا، ہمارے پاس وہ تیل نہیں ہوتا تھا، جس سے چراغ جلایا جاتا تھا، (اگر وہ ہوتا تو ہم سالن تیار کرتے)، آل محمد پر ایسا مہینہ بھی گزرتا تھا کہ وہ نہ اس میں کوئی روٹی پکاتے تھے اور نہ ہنڈیا تیار کرتے تھے۔ حمید راوی کہتے ہیں: جب میں نے یہ حدیث صفوان بن محرز کو بیان کی تو انھوں نے کہا: نہیں، ایک ایک ماہ نہیں، بلکہ دو دو ماہ تک ایسا معاملہ ہو جاتاتھا۔
عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حِينَ شَبِعَ النَّاسُ مِنَ الْأَسْوَدَيْنِ الْمَاءِ وَالتَّمْرِسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ جب لوگوں نے دو سیاہ چیزوں پانی اور کھجور سے سیر ہونا شروع کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انتقال فرما گئے۔
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّهَا قَالَتْ يَا ابْنَ أُخْتِي كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوْقَ الْوَفْرَةِ وَدُونَ الْجُمَّةِ وَأَيْمُ اللَّهِ يَا ابْنَ أُخْتِي إِنْ كَانَ لَيَمُرُّ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشَّهْرُ مَا يُوقَدُ فِي بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ نَارٍ إِلَّا أَنْ يَكُونَ اللُّحَيْمُ وَمَا هُوَ إِلَّا الْأَسْوَدَانِ الْمَاءُ وَالتَّمْرُ إِلَّا أَنَّ حَوْلَنَا أَهْلَ دُورٍ مِنَ الْأَنْصَارِ جَزَاهُمُ اللَّهُ خَيْرًا فِي الْحَدِيثِ وَالْقَدِيمِ فَكُلُّ يَوْمٍ يَبْعَثُونَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِغَزِيرَةِ شَاتِهِمْ يَعْنِي فَيَنَالُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ ذَلِكَ اللَّبَنِ وَلَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَمَا فِي رَفِّي مِنْ طَعَامٍ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا قَرِيبٌ مِنْ شَطْرِ شَعِيرٍ فَأَكَلْتُ مِنْهُ حَتَّى طَالَ عَلَيَّ لَا يَفْنَى فَكِلْتُهُ فَفَنِيَ فَلَيْتَنِي لَمْ أَكُنْ كِلْتُهُ وَأَيْمُ اللَّهِ لَا كَانَ ضِجَاعُهُ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهُ لِيفٌسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، انھوں نے کہا: اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال وفرہ سے زیادہ اور جُمّہ سے کم تھے، اے میرے بھانجے! اللہ کی قسم ہے، آل محمد کا پورا مہینہ اس طرح گزر جاتا ہے کہ گھر میں آگ جلانے تک کی نوبت نہیں آتی تھا، بس کبھی کبھار تھوڑا بہت گوشت (بطورِ ہدیہ) آ جاتا تھا، نہیں تو پانی اور کھجور سے ہی گزارا کرنا پڑتا تھا، البتہ ہمارے ارد گرد انصاری لوگوں کے گھر تھے، اللہ تعالی ان کو دنیا و آخرت میں جزائے خیر دے، وہ روزانہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف زیادہ دودھ والی بکری بھیج دیتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کا دودھ پی لیتے تھے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فوت ہوئے تو میری الماری میں نصف (وسق) جو کے تھے، میں ان سے کھاتی رہا، جب کافی عرصہ ہو گیا اور وہ ختم نہیں ہو رہے تھے تو میں نے ان کو ماپ لیا، پس وہ ختم ہو گئے، کاش میں ان کو نہ ماپتی، اللہ کی قسم ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا بچھونا چمڑے کا ہوتا تھا اور اس میں کھجور کی چھال بھری ہوتی تھی۔
وَفْرَہ: وہ بال جو کانوں کے برابر تک ہوں۔
لِمَّہ: جو کانوں اور کندھوں کے درمیان ہوں۔
پیارے رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مبارک بالوں کے بارے میں مختلف احادیث میں تینوں الفاظ عام استعمال کیے گئے ہیں، ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کٹنگ کرواتے وقت کانوں کے نچلے حصے کے برابر بال کاٹ لیتے ہوں، جب وہ بڑھتے بڑھتے کندھوں کو لگنے لگتے تو پھر کاٹ دیتے ہوں۔
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ مِنَ الدُّنْيَا ثَلَاثَةٌ الطَّعَامُ وَالنِّسَاءُ وَالطِّيبُ فَأَصَابَ اثْنَتَيْنِ وَلَمْ يُصِبْ وَاحِدَةً أَصَابَ النِّسَاءَ وَالطِّيبَ وَلَمْ يُصِبِ الطَّعَامَسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ دنیا کی تین چیزیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھیں: کھانا، عورتیں اور خوشبو، دو چیزیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مل گئیں،یعنی عورتیں اور خوشبو، البتہ تیسری چیز کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ مل سکی۔
اس موضوع سے متعلقہ درج ذیل روایت صحیح ہے: سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حُبِّبَ إِلَیَّ مِنَ الدُّنْیَا النِّسَائُ وَالطِّیْبُ وَجُعِلَ قُرَّۃُ عَیْنِی فِی الصَّلَاۃِ۔)) … دنیا میں سے عورتوں اور خوشبو کو میرے لیے محبوب بنا دیا گیا ہے اور میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں ہے۔ (مسند احمد: ۱۲۲۹۳، اس حدیث کا معنی و مفہوم کے لیے حدیث نمبر ۶۸۳۳ کی شرح ملاحظہ فرمائیں)
اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیوی کی آسائشیں اللہ تعالی کی نعمت ہیں، لیکن اس نعمت سے بڑے لوگوں کو دھوکہ ہوا ہے، اس کا انداز آخرت کے نتائج سے پہلے نہیں ہو سکتا، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں آسائشوں کو ترجیح نہیں دی تاکہ اخروی منازل و مراتب متاثر نہ ہوں۔
قارئین کرام! ہم یہاں بڑا اہم نکتہ بیان کرنا چاہتے ہیں، وہ یہ ہے کہ دین کا کام کرنے کے لیے خلوص اور محنت کی ضرورت ہے، دنیا کے اسباب و وسائل کی نہیں، نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے پاس دنیوی نعمتیں نہیں تھیں، لیکن دین کا کام سب سے زیادہ اُن ہستیوں نے ہیسرانجام دیا، تبلیغِ دین کی رغبت رکھنے والوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی مسجد اور محلہ سے دین کی تبلیغ شروع کر دیں، لیکن حکمت اور دانائی کے ساتھ اور دنیوی وسائل کی کمی کا شکوہ نہ کریں، تنخواہ اور کفالت میں زیادتی کا مطالبہ اور بات ہے، لیکن کم تنخواہ کا یہ مطلب نہیں کہ دینی خدمت میں کمی آ جائے۔
فَمِنْ ذَالِکَ مَا رُوِیَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رضی اللہ عنہ
اس موضوع سے متعلقہ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی احادیث
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ فَاطِمَةَ نَاوَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كِسْرَةً مِنْ خُبْزِ شَعِيرٍ فَقَالَ ”هَذَا أَوَّلُ طَعَامٍ أَكَلَهُ أَبُوكِ مِنْ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ“سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جو کی روٹی کا ایک ٹکڑا پکڑایا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تین دن ہو گئے ہیں، اب یہ پہلی چیز ہے، جو تیرے باپ کو کھانے کے ملی ہے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”لَقَدْ أُخِفْتُ فِي اللَّهِ وَمَا يَخَافُ أَحَدٌ وَلَقَدْ أُوذِيتُ فِي اللَّهِ وَمَا يُؤْذَى أَحَدٌ وَلَقَدْ أَتَتْ عَلَيَّ ثَلَاثُونَ مِنْ بَيْنِ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ وَمَا لِي وَلَا لِبِلَالٍ طَعَامٌ يَأْكُلُهُ ذُو كَبِدٍ إِلَّا شَيْءٌ يُوَارِيهِ إِبْطُ بِلَالٍ“سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے اللہ تعالی کی راہ میں بہت ڈرایا گیا، اتنا کسی کو نہیں ڈرایا گیا اور مجھے اللہ تعالی کے راستے میں اتنی تکلیف دی گئی کہ اتنی تکلیف کسی کو نہیں دی گئی، ایسے ایسے تیس تیس شب و روز بھی گزرے ہیں کہ میرے لیے اور بلال کے لیے کوئی ایسی چیز نہیں ہوتی تھی، جس کو کوئی جاندار کھا سکے، ما سوائے اس چیز کے، جس کو بلال کی بغل چھپا لیتی تھی۔
نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈرتے اور گھبراتے نہیں تھے، البتہ دشمنوں نے ڈرانے دھمکانے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑ رکھی تھی۔
جسمانی اذیتوں سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تکلیف ہوتی تھی، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صبر و شکر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ دُعِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ عَلَى خُبْزِ شَعِيرٍ وَإِهَالَةٍ سَنِخَةٍ قَالَ وَلَقَدْ سَمِعْتُهُ ذَاتَ يَوْمِ الْمِرَارِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا أَصْبَحَ عِنْدَ آلِ مُحَمَّدٍ صَاعُ حَبٍّ وَلَا صَاعُ تَمْرٍ“ وَإِنَّ لَهُ يَوْمَئِذٍ لَتِسْعَ نِسْوَةٍ وَلَقَدْ رَهَنَ دِرْعًا لَهُ عِنْدَ يَهُودِيٍّ بِالْمَدِينَةِ أَخَذَ مِنْهُ طَعَامًا فَمَا وَجَدَ لَهَا مَا يَفْتَكُّهَا بِهِسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن جو کی روٹی اور ایسے سالن کے لیے دعوت دی گئی، جس سے زیادہ دیر تک پڑا رہنے کی وجہ سے بد بو آ رہی تھی اور میں نے خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایک دن میں کئی بار فرماتے ہوئے سنا کہ اس ذات کی قسم، جس کے ہاتھ میں محمد ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی جان ہے، آل محمد کے پاس اناج اور کھجور کا ایک صاع بھی نہیں ہے۔ جبکہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو بیویاں تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ میں ایکیہودی کے پاس اپنی زرہ گروی رکھی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے اناج ادھار لیا تھا، اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس (قرض واپس کرنے کے لیے) اتنا مال نہیں تھا کہ وہ زرہ چھڑا سکیں۔
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ كُنَّا نَأْتِي أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَخَبَّازُهُ قَائِمٌ قَالَ فَقَالَ يَوْمًا كُلُوا فَمَا أَعْلَمُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَغِيفًا مُرَقَّقًا وَلَا شَاةً سَمِيطًا قَطُّ قَالَ عَفَّانُ فِي حَدِيثِهِ حَتَّى لَحِقَ بِرَبِّهِجناب ِ قتادہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے، جبکہ ان کا روٹی بنانے والا باورچی ان کے پاس کھڑا ہوتا، ایک دن انھوں نے کہا: کھاؤ، میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پتلی بڑی چپاتی اور بال اتار کر بھونی ہوئی بکری دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنے پروردگار سے جا ملے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَجْتَمِعْ لَهُ غَدَاءٌ وَلَا عَشَاءٌ مِنْ خُبْزٍ وَلَحْمٍ إِلَّا عَلَى ضَفَفٍسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ تنگی اور قلت کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس روٹی اور گوشت والا دوپہر کا کھانا اور شام کا کھانا جمع نہیں ہوا۔
عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَلْتَوِي مَا يَجِدُ مَا يَمْلَأُ بِهِ بَطْنَهُ مِنَ الدَّقَلِسیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بل دار اور ٹیڑھا ہوتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ردّی اور خشک قسم کی کھجوریں بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتی تھیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیٹ بھر کر کھا سکیں۔
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَبِيتُ اللَّيَالِيَ الْمُتَتَابِعَةَ طَاوِيًا وَأَهْلُهُ لَا يَجِدُونَ عَشَاءً قَالَ وَكَانَ عَامَّةُ خُبْزِهِمْ خُبْزَ الشَّعِيرِسیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل لگاتار کئی راتیں بھوک کی حالت میں گزارتے تھے، ان کے پاس شام کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور ان کی عام روٹی جو کی ہوتی تھی۔
حَدَّثَنَا يَزِيدُ أَخْبَرَنَا رَجُلٌ وَالرَّجُلُ كَانَ يُسَمَّى فِي كِتَابِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَمْرَو بْنَ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَا شَبِعَ آلُ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ خُبْزِ بُرٍّ مَأْدُومٍ حَتَّى مَضَى لِوَجْهِهِ قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ وَكَانَ أَبِي رَحِمَهُ اللَّهُ قَدْ ضَرَبَ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ فِي كِتَابِهِ فَسَأَلْتُهُ فَحَدَّثَنِي بِهِ وَكَتَبَ عَلَيْهِ صَحَّ صَحَّ إِنَّمَا ضَرَبَ أَبِي عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ لِأَنَّهُ لَمْ يَرْضَ الرَّجُلَ الَّذِي حَدَّثَ عَنْهُ يَزِيدُسیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آل سالن اور گندم کی روٹی سے سیر نہیں ہوئے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (دنیائے فانی سے) روانہ ہو گئے۔ ابو عبد الرحمن نے کہا: میرے باپ امام احمد رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی کتاب میں اس حدیث پر کراس لگا دیا تھا، جب میں نے ان سے اس کے بارے میں سوال کیا تو انھوں نے مجھے یہ حدیث بیان کی اور اس پر صَحّ صَحّ کی علامت لگائی اور انھوں نے کہا: میرے باپ نے اس حدیث پر اس لیے کراس لگا دیا تھا کہ وہ اس راوی کو پسند نہیں کرتے تھے، جس سے یزید بیان کرتا ہے۔
حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا حَرِيزٌ حَدَّثَنَا سُلَيْمُ بْنُ عَامِرٍ الْخَبَائِرِيُّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ الْبَاهِلِيَّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ مَا كَانَ يَفْضُلُ عَنْ أَهْلِ بَيْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خُبْزُ الشَّعِيرِسیدنا ابو امامہ باہلی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر والوں سے جو کی روٹی باقی نہیں بچتی تھی، (یعنی کھانے کی مقدار اتنی ہوتی تھی کہ بمشکل ہی گھر والوں کو کفایت کرتی تھی)۔
عَنْ أَبِي حَازِمٍ عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ قِيلَ لَهُ هَلْ رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ قَبْلَ مَوْتِهِ بِعَيْنَيْهِ يَعْنِي الْحُوَّارَى قَالَ مَا رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ النَّقِيَّ بِعَيْنَيْهِ حَتَّى لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فَقِيلَ لَهُ هَلْ كَانَ لَكُمْ مَنَاخِلُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَا كَانَتْ لَنَا مَنَاخِلُ قِيلَ لَهُ فَكَيْفَ كُنْتُمْ تَصْنَعُونَ بِالشَّعِيرِ قَالَ نَنْفُخُهُ فَيَطِيرُ مِنْهُ مَا طَارَسیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ان سے پوچھا گیا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے وفات سے پہلے سفید آٹا دیکھا تھا؟ انھوں نے کہا:جی نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے سفید آٹا نہیں دیکھا تھا، یہاں تک کہ وفات پا گئے، پھر سیدنا سہل سے یہ پوچھا گیا کہ کیا عہد ِ نبوی میں تمہارے پاس چھاننیاں ہوتی تھیں؟ انھوں نے کہا: ہمارے پاس چھاننیاں نہیں ہوتی تھیں، ان سے کہا گیا: پھر تم لوگ جو کے آٹے کا کیا کرتے تھے (اس میں چھلکا ہوتا ہے)؟ انھوں نے کہا: بس پھونک مار لیتے تھے، سو جو چھلکا اڑ گیا، وہ اڑ گیا، (باقی آٹا گوندھ دیتےتھے)۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَتْ تُعْجِبُهُ الْفَاغِيَةُ وَكَانَ أَعْجَبُ الطَّعَامِ إِلَيْهِ الدُّبَّاءُسیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فاغیہ بہت پسند تھا اور کھانوں میں سے سب سے زیادہ پسندیدہ کھانا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو کا سالن تھا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قُدِّمَتْ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَصْعَةٌ فِيهَا قَرْعٌ قَالَ وَكَانَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلَ يَلْتَمِسُ الْقَرْعَ بِأَصَابِعِهِسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک پیالہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کیا گیا، اس میں کدو بھی تھے، جبکہ یہ چیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند بھی بڑی تھی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی انگلی یا انگلیوں کی مدد سے کدو تلاش کرنے لگے۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَعَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ قَالَ فَجِيءَ بِمَرَقَةٍ فِيهَا دُبَّاءٌ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ ذَلِكَ الدُّبَّاءَ وَيُعْجِبُهُ فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ جَعَلْتُ أُلْقِيهِ إِلَيْهِ وَلَا أَطْعَمُ مِنْهُ شَيْئًا فَقَالَ أَنَسٌ فَمَا زِلْتُ أُحِبُّهُ قَالَ سُلَيْمَانُ فَحَدَّثْتُ بِهَذَا الْحَدِيثِ سُلَيْمَانَ التَّيْمِيَّ فَقَالَ مَا أَتَيْنَا أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ قَطُّ فِي زَمَانِ الدُّبَّاءِ إِلَّا وَجَدْنَاهُ فِي طَعَامِهِسیدنا انس بن مالک سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لے گئے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ گیا، پس کھانے میں شوربا لایا گیا، اس میں کدو تھے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے کدو کھانے لگے، دراصل کدو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پسند تھے، جب میں نے اس چیز کا مشاہدہ کیا تو میں کدو ڈال کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دینے لگا اور میں خود نہیں کھا رہا تھا (تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیر ہو کر کھا لیں)۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: پس میں اس وجہ سے ہمیشہ کدو پسند کرتا رہا، سلیمان تیمی کہتے ہیں: کدو کے موسم میں ہم جب بھی سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس آتے تھے تو ان کے کھانے میں کدو پاتے تھے۔
عَنْ قَتَادَةَ سَمِعَ أَنَسًا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُعْجِبُهُ الدُّبَّاءُ قَالَ أَنَسٌ فَجَعَلْتُ أَضَعُهُ بَيْنَ يَدَيْهِسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کدو پسند تھے، پس میں وہ کدو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھتا تھا۔
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَعَثَتْ مَعِي أُمُّ سُلَيْمٍ بِمِكْتَلٍ فِيهِ رُطَبٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمْ أَجِدْهُ وَخَرَجَ قَرِيبًا إِلَى مَوْلًى لَهُ دَعَاهُ صَنَعَ لَهُ طَعَامًا قَالَ فَأَتَيْتُهُ فَإِذَا هُوَ يَأْكُلُ فَدَعَانِي لِآكُلَ مَعَهُ قَالَ وَصَنَعَ لَهُ ثَرِيدًا بِلَحْمٍ وَقَرْعٍ قَالَ وَإِذَا هُوَ يُعْجِبُهُ الْقَرْعُ قَالَ فَجَعَلْتُ أَجْمَعُهُ وَأُدْنِيهِ مِنْهُ قَالَ فَلَمَّا طَعِمَ رَجَعَ إِلَى مَنْزِلِهِ قَالَ وَوَضَعْتُ لَهُ الْمِكْتَلَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَجَعَلَ يَأْكُلُ وَيَقْسِمُ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِرِهِسیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدہ ام سلیم نے مجھے ایک ٹوکرا دے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طر ف بھیجا، اس میں تازہ کھجوریں تھیں، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گھر پر نہیں پایا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قریب ہی اپنے ایک غلام کی طرف گئے ہوئے تھے، دراصل اس نے کھانا تیار کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دعوت دی تھی، میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانا تناول فرما رہے تھے، پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بھے کھانے کے لیے بلایا، اس آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے گوشت اور کدو کا ثرید بنایا تھا، میں کیا دیکھتا ہوں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تو کدو بہت پسند تھے، پس میں کدو جمع کر کے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کرنے لگا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھانے سے فارغ ہو کر گھر تشریف لے آئے تو میں نے وہ ٹوکرا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ کھجوریں کھانا اور ان کو تقسیم کرنا شروع کر دیا،یہاں تک کہ وہ ختم ہو گئیں۔
عَنْ حَكِيمِ بْنِ جَابِرٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِهِ فَرَأَيْتُ عِنْدَهُ قَرْعًا فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا قَالَ هَذَا قَرْعٌ نُكَثِّرُ بِهِ طَعَامَنَاسیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھر گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں کدو دیکھے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کیا ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کدو ہیں، ہم زیادہ تر اس کو اپنے کھانے میں استعمال کرتے ہیں۔
حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ الْمَدَائِنِيُّ حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الثُّفْلُ قَالَ عَبَّادٌ يَعْنِي ثُفْلَ الْمَرَقِسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شوربے والا ثرید بہت پسند تھا۔
عَنْ أَبِي رَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ صُنِعَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَاةٌ مَصْلِيَّةٌ فَأُتِيَ بِهَا فَقَالَ لِي ”يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلْتُهُ فَقَالَ ”يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ“ فَنَاوَلْتُهُ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا رَافِعٍ نَاوِلْنِي الذِّرَاعَ“ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَهَلْ لِلشَّاةِ إِلَّا ذِرَاعَانِ فَقَالَ ”لَوْ سَكَتَّ لَنَاوَلْتَنِي مِنْهَا مَا دَعَوْتُ بِهِ“ قَالَ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُعْجِبُهُ الذِّرَاعُسیدنا ابو رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری بھونی گئی اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پیش کی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: اے ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی پکڑا دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تھما دی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ابو رافع! مجھے دستی پکڑاؤ۔ ‘ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بکری کی دو ہی دستیاں ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو خاموش رہتا تو جب تک میں مطالبہ کرتا رہتا، تو مجھے دستیاں پکڑاتا جاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دستی بڑی پسند تھی۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ الذِّرَاعَسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دستی پسند تھی۔
عَنْ ضُبَاعَةَ بِنْتِ الزُّبَيْرِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَنَّهَا ذَبَحَتْ فِي بَيْتِهَا شَاةً فَأَرْسَلَ إِلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَطْعِمِينَا مِنْ شَاتِكُمْ فَقَالَتْ لِلرَّسُولِ وَاللَّهِ مَا بَقِيَ عِنْدَنَا إِلَّا الرَّقَبَةُ وَإِنِّي أَسْتَحْيِي أَنْ أُرْسِلَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِالرَّقَبَةِ فَرَجَعَ الرَّسُولُ فَأَخْبَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”ارْجِعْ إِلَيْهَا فَقُلْ أَرْسِلِي بِهَا فَإِنَّهَا هَادِيَةُ الشَّاةِ وَأَقْرَبُ الشَّاةِ إِلَى الْخَيْرِ وَأَبْعَدُهَا مِنَ الْأَذَى“سیدہ ضباعہ بنت زبیر بن عبد المطلب رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انھوں نے اپنے گھر میں ایک بکری ذبح کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی طرف پیغام بھیجا کہ ہمیں بھی اپنی بکری میں سے کچھ کھلا دو، انھوں نے قاصد کو جواباً کہا: اللہ کی قسم! صرف گردن بچی پڑی ہے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے شرم آتی ہے کہ میں وہ گردن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف بھیجوں، پس قاصد لوٹ آیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صورتحال سے آگاہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو لوٹ جا اور ان سے کہو کہ وہ یہی گردن ہی بھیج دیں، کیونکہیہ بکری کا ابتدائی حصہ ہے، لذت اور پکنے میں سب سے بہتر ہے اور پیشاب اور مینگنیوں وغیرہ سے بھی دور ہے۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ صَنَعْنَا لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَخَّارَةً فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَوَضَعْتُهَا بَيْنَ يَدَيْهِ فَاطَّلَعَ فِيهَا فَقَالَ ”حَسِبْتُهُ لَحْمًا“ فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَهْلِي فَذَبَحُوا لَهُ شَاةًسیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے سنگریزوں کا ایک برتن بنایا ہوا تھا، میں وہ برتن آپ کے پاس لایا اور اسے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے رکھ دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں جھانکا اور فرمایا: میرا خیال ہے کہ اس میں گوشت ہے۔ میں نے اس چیز کا ذکر گھر والوں سے کیا (اور ہم سمجھ گئے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گوشت کھانے کی خواہش ہے) پس انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے بکری ذبح کی۔
عَنْ شُعَيْبِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ قَالَ مَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَأْكُلُ مُتَّكِئًا قَطُّ وَلَا يَطَأُ عَقِبَيْهِ رَجُلَانِ قَالَ عَفَّانُ عَقِبَيْهِسیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہیں دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی ٹیک لگا کر کھانا کھایا ہو اور دو افراد نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایڑھیوں کا نہیں روندا۔
(ملاحظہ ہو: سلسلہ صحیحہ: ۳۱۲۲)
دوسرے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے اور آگے نہیں چلتے تھے۔
صحابۂ کرام کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آگے چلنے کہ وجہ اس حدیث میں مذکور ہے: سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: کَانَ أَصْحَابُہٗیَمْشُوْنَ أَمَامَہٗإِذَاخَرَجَوَیَدَعُوْنَ ظَھْرَہٗلِلْمَلَائِکَۃِ۔ (ابن ماجہ،صحیحہ: ۴۳۶) … صحابۂ کرام آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے چلتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پشت فرشتوں کے لیے چھوڑ دیتے تھے۔
جبکہ سیدنا جابر کی دوسری روایت میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا: ((اِمْشُوْا اَمَامِیْ وَخَلُّوْا ظَھْرِیْ لِلْمَلَائِکَۃِ۔)) (صحیحہ: ۱۵۵۷، الحلیۃ لابی نعیم: ۷/۱۱۷) … میرے آگے چلا کرو اور میری پشت کو فرشتوں کے لیے خالی چھوڑ دیا کرو۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ مَا عَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا قَطُّ كَانَ إِذَا اشْتَهَاهُ أَكَلَهُ وَإِذَا لَمْ يَشْتَهِهِ تَرَكَهُسیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کبھی بھی کھانے کا عیب نہیں نکالا، اگر چاہا تو کھا لیااور اگر نہ چاہا تو نہیں کھایا۔
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ مَا أَكَلَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى خِوَانٍ وَلَا فِي سُكُرُّجَةٍ وَلَا خُبِزَ لَهُ مُرَقَّقٌ قَالَ قُلْتُ لِقَتَادَةَ فَعَلَامَ كَانُوا يَأْكُلُونَ قَالَ عَلَى السُّفَرِسیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نہ نبی ٔ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دسترخوان پر کھاتے تھے، نہ چھوٹے چھوٹے برتنوں میں اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے پتلی بڑی روٹی بنائی جاتی تھی۔ میں نے جناب قتادہ سے کہا: تو پھر وہ کس چیز پر کھانا کھایا کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: بس عام سے دسترخوان پر (جو زیادہ تر چمڑے کا گولائی کی شکل میں ہوتا تھا)۔
عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ كَانَتْ يَمِينُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لِطَعَامِهِ وَصَلَاتِهِ وَكَانَتْ شِمَالُهُ لِمَا سِوَى ذَلِكَسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا دائیں ہاتھ کھانے اور نماز وغیرہ کے لیے ہوتا تھا اور بائیاں ہاتھ دوسرے (مکروہ) امور کے لیے۔