حدیث نمبر: 11321
عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ كَانَ فِي الْمَاءِ قِلَّةٌ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ أَوْ فِي جَفْنَةٍ فَنَضَحْنَا بِهِ قَالَ وَالسَّعِيدُ فِي أَنْفُسِنَا مَنْ أَصَابَهُ وَلَا نَرَاهُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ كُلَّهُمْ قَالَ ثُمَّ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الضُّحَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناعائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ پانی تھوڑا تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک پیالےیا کھلے برتن میں وضو کیا، ہم نے اس سے پانی لے لے کر مختصر وضو کیا، ہم میں وہ آدمی خوش قسمت تھا، جسے اس پانی میں سے کچھ مل گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ پانی ہر آدمی کو مل گیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس معجزہ کا بیان ہے کہ متعدد مواقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میں بہت زیادہ اضافہ ہوا اور لوگوں نے اپنی اپنی ضرورت پوری کر لی، جبکہ اصل پانی انتہائی معمولی مقدار میں ہوتا تھا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11321
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لابھام الراوي عن عائذ بن عمرو، اخرجه الطبراني في الكبير : 18/ 34 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20639 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20915»