الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ المَاءِ وَتَكْثِيرِهِ بِبَرَكَتِهِ باب: یہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا
عَنْ أَبِي قَتَادَةَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَكَانَ مَعَهُ مِيضَأَةٌ وَفِيهَا جَرْعَةُ مَاءٍ قَالَ أَبُو قَتَادَةَ فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّهِيرَةُ رَفَعَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ فَقَالَ ”لَا هُلْكَ عَلَيْكُمْ“ ثُمَّ قَالَ ”يَا أَبَا قَتَادَةَ ائْتِ بِالْمِيضَأَةِ“ فَأَتَيْتُهُ بِهَا فَقَالَ ”احْلِلْ لِي غُمَرِي“ يَعْنِي قَدَحَهُ فَحَلَلْتُهُ فَأَتَيْتُهُ بِهِ فَجَعَلَ يَصُبُّ فِيهِ وَيَسْقِي النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَكُلُّكُمْ سَيَصْدُرُ عَنْ رَيٍّ“ فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتَّى لَمْ يَبْقَ غَيْرِي وَغَيْرَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَصَبَّ لِي فَقَالَ ”اشْرَبْ يَا أَبَا قَتَادَةَ“ قَالَ قُلْتُ اشْرَبْ أَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ إِنَّ سَاقِيَ الْقَوْمِ آخِرُهُمْ فَشَرِبْتُ وَشَرِبَ بَعْدِي وَبَقِيَ فِي الْمِيضَأَةِ نَحْوٌ مِمَّا كَانَ فِيهَا وَهُمْ يَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَةٍسیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابۂ کرام کے ساتھ تھا، ان کے پاس وضو کا ایک برتن تھا، جس میں محض ایک چلو کی مقدارپانی تھا، جب دھوپ خوب تیز ہوئییعنی گرمی بڑھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لوگوں کے سامنے آئے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پیاس کی شدت کی وجہ سے ہم مر رہے ہیں، ہماری تو گردنیں ٹوٹ رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا: آج تم پر ہلاکت نہیں پڑے گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! تم وضو والا برتن لے کر آؤ۔ میں نے وہ برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے فرمایا: تم میرا چھوٹا پیالہ کھول لاؤ۔ میں اسے کھول کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لایا، آپ اس میں پانی ڈال کر لوگوں کو پلانے لگے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی بھرنے کے لیے اچھا رویہ اپناؤ، تم میں سے ہر ایک سیراب ہو کر لوٹے گا۔ سب لوگوں نے خوب پانی پیا، صرف اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میں بچ گئے، آپ نے پیالے میں میرے لیے پانی ڈالا اور فرمایا: ابو قتادہ! لو پیو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے آپ پئیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ تب میں نے پیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرے بعد نوش فرمایا اور وضو کے برتن میں پانی جتنا تھا، وہ تقریباً اتنا ہی رہا۔ اس دن صحابہ کی تعداد تین سو تھی۔