حدیث نمبر: 11319
عَنِ الْبَرَاءِ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي مَسِيرٍ فَأَتَيْنَا عَلَى رَكِيَّةٍ ذَمَّةٍ يَعْنِي قَلِيلَةَ الْمَاءِ قَالَ فَنَزَلَ فِيهَا سِتَّةٌ أَنَا سَادِسُهُمْ مَاحَةً فَأُدْلِيَتْ إِلَيْنَا دَلْوٌ قَالَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفَةِ الرَّكِيَّةِ فَجَعَلْنَا فِيهَا نِصْفَهَا أَوْ قِرَابَ ثُلُثَيْهَا فَرُفِعَتْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ الْبَرَاءُ فَكِدْتُ بِإِنَائِي هَلْ أَجِدُ شَيْئًا أَجْعَلُهُ فِي حَلْقِي فَمَا وَجَدْتُ فَرُفِعَتِ الدَّلْوُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَغَمَسَ يَدَهُ فِيهَا فَقَالَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَقُولَ فَعِيدَتْ إِلَيْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِيهَا قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُ أَحَدَنَا أُخْرِجَ بِثَوْبٍ خَشْيَةَ الْغَرَقِ قَالَ ثُمَّ سَاحَتْ يَعْنِي جَرَتْ نَهْرًا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ تھے، ہم ایک ایسے کنوئیں تک پہنچے جس میں بہت تھوڑا پانی تھا، کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے پانچ آدمی اس میں اترے، میں چھٹا تھا، کنویں میں ہماری طرف ڈول ڈالا گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کنویں کے کنارے پر موجود تھے۔ ہم نے اس ڈول میں اس کے نصف تک یا دو تہائی تک پانی بھرا تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف اوپر کو کھینچ لیا گیا۔ سیدنا برائ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کوشش کی کہ اپنے برتن میں کچھ پانی ڈال کر اپنے حلق کو تر کر لوں، مگر مجھے اس قدر تھوڑا سا پانی بھی نہ مل سکا۔ ڈول اوپر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف کھینچا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں ہاتھ ڈبو کر اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور ڈول کو پانی سمیت کنویں کے اندر ہماری طرف واپس اتارا گیا۔ اس کی برکت سے کنویں میں اتنا پانی ہو گیا کہ ہمارے ڈوب جانے کے اندیشہ سے ہم میں سے ہر ایک کو کپڑے کے ساتھ باندھ کر باہر نکالا گیا، اس کے بعد وہ نہر کی طرح بہنے لگا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11319
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال يونس بن عُبيد، اخرجه الطبراني في الكبير : 1177 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18584 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18785»