حدیث نمبر: 11316
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ أُمَّ مَالِكٍ الْبَهْزِيَّةَ كَانَتْ تُهْدِي فِي عُكَّةٍ لَهَا سَمْنًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَبَيْنَا بَنُوهَا يَسْأَلُونَهَا الْإِدَامَ وَلَيْسَ عِنْدَهَا شَيْءٌ فَعَمَدَتْ إِلَى عُكَّتِهَا الَّتِي كَانَتْ تُهْدِي فِيهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدَتْ فِيهَا سَمْنًا فَمَا زَالَ يَدُومُ لَهَا أُدْمُ بَنِيهَا حَتَّى عَصَرَتْهُ وَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ ”أَعَصَرْتِيهِ“ قَالَتْ نَعَمْ قَالَ ”لَوْ تَرَكْتِيهِ مَا زَالَ ذَلِكَ لَكِ مُقِيمًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناجابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام مالک بہزیہ رضی اللہ عنہا چمڑے کے ایک برتن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی بطور ہدیہ بھیجا کرتی تھیں۔ایک دفعہ ان کے بیٹوں نے ان سے سالن طلب کیا، ان کے پاس ایسی کوئی چیز نہ تھی، جسے وہ بطور سالن دیتیں، وہ جس برتن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں گھی بھیجا کرتی تھیں، اس میں انہوں نے تھوڑا سا گھی پایا، ایک عرصہ تک وہی گھی ان کے بیٹوں کے لیے سالن کا کام دیتا رہا۔ یہاں تک کہ ایک دفعہ انہوں نے اسے نچوڑ دیا۔ پھر اس نے آکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا (کہ برتن کا گھی تو ختم ہوگیا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کیا تو نے اسے نچوڑا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو اسے ویسے ہی استعمال کرتی رہتی تو وہ تیرے لیے کبھی ختم نہ ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے متعدد معجزات بیان ہوئے ہیں کہ آپ کی برکت سے کھانے کی معمولی مقدار میں اس قدر برکت ہوئی کہ وہ کھانا جو بظاہر تھوڑا ہوتا تھا، لیکن بہت بڑی تعداد کی ضرورت پوری کر جاتا۔ حدیث نمبر (۱۱۳۰۳)کے مطابق تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس برکت سے خود اتنا تعجب ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اپنی رسالت کی گواہی دی اور اس شہادت کی بنا پر جنت میں جانے کی خوشخبری بھی سنا دی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11316
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14664 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14719»