حدیث نمبر: 11311
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَى أَبُو طَلْحَةَ بِمُدَّيْنِ مِنْ شَعِيرٍ فَأَمَرَ بِهِ فَصُنِعَ طَعَامًا ثُمَّ قَالَ لِي يَا أَنَسُ انْطَلِقْ ائْتِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَادْعُهُ وَقَدْ تَعْلَمُ مَا عِنْدَنَا قَالَ فَأَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ عِنْدَهُ فَقُلْتُ إِنَّ أَبَا طَلْحَةَ يَدْعُوكَ إِلَى طَعَامِهِ فَقَامَ وَقَالَ لِلنَّاسِ ”قُومُوا“ فَقَامُوا فَجِئْتُ أَمْشِي بَيْنَ يَدَيْهِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى أَبِي طَلْحَةَ فَأَخْبَرْتُهُ قَالَ فَضَحْتَنَا قُلْتُ إِنِّي لَمْ أَسْتَطِعْ أَنْ أَرُدَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ أَمْرَهُ فَلَمَّا انْتَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَابِ قَالَ لَهُمْ ”اقْعُدُوا“ وَدَخَلَ عَاشِرَ عَشَرَةٍ فَلَمَّا دَخَلَ وَأُتِيَ بِالطَّعَامِ تَنَاوَلَ فَأَكَلَ وَأَكَلَ مَعَهُ الْقَوْمُ حَتَّى شَبِعُوا ثُمَّ قَالَ لَهُمْ ”قُومُوا وَلْيَدْخُلْ عَشَرَةٌ مَكَانَكُمْ“ حَتَّى دَخَلَ الْقَوْمُ كُلُّهُمْ وَأَكَلُوا قَالَ قُلْتُ كَمْ كَانُوا قَالَ كَانُوا نَيْفًا وَثَمَانِينَ قَالَ وَفَضَلَ لِأَهْلِ الْبَيْتِ مَا أَشْبَعَهُمْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ دو مد جولے کر آئے، انہوں نے اس سے کھانا تیار کرنے کا حکم دیا، پھر مجھ سے کہا: انس! تم جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بلا لاؤ اور تم جانتے ہی ہو کہ کھانا تھوڑا سا ہے۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں پہنچا تو صحابۂ کرام بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس تھے۔ میں نے عرض کیا کہ ابو طلحہ رضی اللہ عنہ آپ کو کھانے کے لیے بلاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوئے اور لوگوں کو بھی کھڑے ہونے کا حکم دیا۔ وہ بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے آگے آگے چلتا ہوا سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچا اور ان کو صورت حا ل سے باخبر کیا (کہ وہ تو سارے لوگ آ رہے ہیں)۔ انھوں نے کہا: تونے تو آج ہمیں رسوا کر دیا ہے۔ میں نے کہا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بات کو رد نہیں کر سکتا تھا، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے پر پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو وہیں بیٹھ جانے کا حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خود نو صحابہ کے ہمراہ اندر چلے آئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب اندر آئے اور کھانا پیش کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ والوں نے خوب سیر ہو کر کھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اٹھ جاؤ اور تمہاری جگہ مزید دس آدمی آجائیں ۔ یہاں تک کہ سب لوگوں نے آکر کھانا تناول کیا۔ عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن صحابۂ کرام کی تعداد کیا تھی؟ انہوں نے بتایا کہ اسی سے زائد افراد تھے، سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ پھر بھی اتنا کھانا بچ گیا جس نے گھر والوںکو سیر کر دیا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11311
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اخرجه مسلم: 2040 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13461»