حدیث نمبر: 11303
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةٍ غَزَاهَا فَأَرْمَلَ فِيهَا الْمُسْلِمُونَ وَاحْتَاجُوا إِلَى الطَّعَامِ فَاسْتَأْذَنُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي نَحْرِ الْإِبِلِ فَأَذِنَ لَهُمْ فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَجَاءَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِبِلُهُمْ تَحْمِلُهُمْ وَتُبَلِّغُهُمْ عَدُوَّهُمْ يَنْحَرُونَهَا بَلِ ادْعُ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَادْعُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهَا بِالْبَرَكَةِ قَالَ ”أَجَلْ“ قَالَ فَدَعَا بِغَبَرَاتِ الزَّادِ فَجَاءَ النَّاسُ بِمَا بَقِيَ مَعَهُمْ فَجَمَعَهُ ثُمَّ دَعَا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ فِيهِ بِالْبَرَكَةِ وَدَعَا بِأَوْعِيَتِهِمْ فَمَلَأَهَا وَفَضَلَ فَضْلٌ كَثِيرٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ ذَلِكَ ”أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَشْهَدُ أَنِّي عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَمَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ بِهِمَا غَيْرَ شَاكٍّ دَخَلَ الْجَنَّةَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک غزوہ میں تشریف لے گئے۔ اس دوران مسلمانوں کا زاد راہ ختم ہو گیا اور وہ کھانے کے سلسلہ میں محتاج ہوگئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اونٹوں کو نحر کرنے کی اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اس کی اجازت مرحمت فرما دی۔ اس کی اطلاع عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کوہوئی تو انہوں نے آکر عرض کی: اللہ کے رسول! یہ اونٹ مسلمانوں کو اپنے اوپرسوار کرکے دشمن تک پہنچاتے ہیںتو کیایہ ان کو ذبح کر لیں؟ اللہ کے رسول! آپ اس کی بجائے لوگوں کے پاس جو بچا کھچا زاد راہ ہے وہ منگوا کر اللہ عزوجل سے اس میں برکت کی دعا فرمائیں (تو زیادہ مناسب ہوگا)۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ ٹھیک ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوںسے ان کے پاس بچا ہوا زاد راہ طلب فرمایا۔ لوگوں کے پاس جو جو چیزیں بچی ہوئی تھیںوہ لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سب کو ایک جگہ جمع کرکے اللہ عزوجل سے برکت کی دعا کی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے برتن (اور تھیلے وغیرہ) منگوا کر ان کو کھانے سے بھر دیااور بہت سا کھانا بچ رہا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ جو کوئی صدق دل سے ان دو باتوں کی گواہی دیتا ہوا اللہ سے جا ملے اور اسے ان میں کسی قسم کا تردد نہ ہو تو وہ جنت میں داخل ہوگا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11303
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح، أخرجه بنحوه مسلم: 27 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9447 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9447»