الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ زِيَادَةُ الطَّعَامِ بِبَرَكَتِهِ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے کھانے میں اضافہ ہو جانا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ ہے
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِتَمَرَاتٍ فَقُلْتُ ادْعُ اللَّهَ لِي فِيهِنَّ بِالْبَرَكَةِ قَالَ فَصَفَّهُنَّ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ ثُمَّ دَعَا فَقَالَ لِي ”اجْعَلْهُنَّ فِي مِزْوَدٍ فَأَدْخِلْ يَدَكَ وَلَا تَنْثُرْهُنَّ“ قَالَ فَحَمَلْتُ مِنْهُ كَذَا وَكَذَا وَسْقًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَنَأْكُلُ وَنُطْعِمُ وَكَانَ لَا يُفَارِقُ حَقْوِي فَلَمَّا قُتِلَ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ انْقَطَعَ عَنْ حَقْوِي فَسَقَطَسیدناابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں کھجوریں لے کر حاضر ہوا اور عرض کی: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے ان کھجوروں میں برکت کی دعا فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کھجوروں کو اپنے سامنے بکھیر لیا۔ پھر دعا فرمائی۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: ان کھجوروں کو چمڑے کے تھیلے میں ڈال لو۔ کھجوریں نکالنے کے لیے اس کے اندر ہاتھ ڈال کر کھجوریں نکالنا اور اسے الٹ کر جھاڑنا نہیں۔ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے اس تھیلے سے اتنے اتنے وسق (ایک وسق ساٹھ صاع اور ایک صاع تقریباً دو کلو سو گرام ہوتا ہے) اللہ کی راہ میں نکالے۔ہم خود کھاتے بھی اور کھلاتے بھی۔ وہ تھیلا کبھی بھی میری کمر سے جدا نہیں ہوتا تھا۔مگرجب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل کا سانحہ پیش آیا تو وہ میری کمر سے کٹ کر گر گیا (اور گم ہوگیا)