الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ تَفَجرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أصَابِعِهِ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ باب: اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ بِضْعَةُ عَشَرَ وَمِائَتَانِ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ هَلْ فِي الْقَوْمِ مِنْ مَاءٍ فَجَاءَ رَجُلٌ يَسْعَى بِإِدَاوَةٍ فِيهَا شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ فَصَبَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي قَدَحٍ قَالَ فَتَوَضَّأَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَحْسَنَ الْوُضُوءَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَكَ الْقَوْمَ فَرَكِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ يَمْسَحُونَ وَيَمْسَحُونَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى رِسْلِكُمْ حِينَ سَمِعَهُمْ يَقُولُونَ ذَلِكَ قَالَ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ وَالْقَدَحِ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِسْمِ اللَّهِ ثُمَّ قَالَ أَسْبِغُوا الْوُضُوءَ فَوَالَّذِي هُوَ ابْتَلَانِي بِبَصَرِي لَقَدْ رَأَيْتُ الْعُيُونَ عُيُونَ الْمَاءِ يَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَتَّى تَوَضَّؤُوا أَجْمَعُونَسیدناجابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ یا سفر میں تھے، ہماری تعداد دو سو دس سے کچھ زائد تھی، اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس پانی ہے؟ (یہ سن کر) ایک آدمی دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیاجس میں معمولی سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پانی ایک پیالہ میں انڈیلا اور خوب اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پیچھے کو ہٹ گئے اور لوگوں کو وہیں رہنے دیا، سب لوگ پیالے کے قریب اکٹھے ہوگئے اور پانی کو چھونے لگے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان لوگوں کا ازدحام اور شور دیکھا تو فرمایا: حوصلہ کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی ہتھیلی پانی اور پیالے میں رکھی اور فرمایا: بسم اللہ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وضوء مکمل کرو۔ (جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے بصارت کے متعلق آزمائش میں ڈالا ہے: اس دن میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے درمیان سے پانی کے چشمے رواں دیکھے،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔