الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ تَفَجرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أصَابِعِهِ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ باب: اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
عَنْ ثَابِتٍ قَالَ قُلْتُ لِأَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حَدِّثْنَا يَا أَبَا حَمْزَةَ مِنْ هَذِهِ الْأَعَاجِيبِ شَيْئًا شَهِدْتَهُ لَا تُحَدِّثُهُ عَنْ غَيْرِكَ قَالَ صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الظُّهْرِ يَوْمًا ثُمَّ انْطَلَقَ حَتَّى قَعَدَ عَلَى الْمَقَاعِدِ الَّتِي كَانَ يَأْتِيهَا عَلَيْهَا جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَجَاءَ بِلَالٌ فَنَادَاهُ بِالْعَصْرِ فَقَامَ كُلُّ مَنْ كَانَ لَهُ بِالْمَدِينَةِ أَهْلٌ يَقْضِي الْحَاجَةَ وَيُصِيبُ مِنَ الْوَضُوءِ وَبَقِيَ رِجَالٌ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ لَيْسَ لَهُمْ أَهَالِي بِالْمَدِينَةِ فَأُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِقَدْحٍ أَرْوَحَ فِيهِ مَاءٌ فَوَضَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَفَّهُ فِي الْإِنَاءِ فَمَا وَسِعَ الْإِنَاءُ كَفَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ بِهَؤُلَاءِ الْأَرْبَعِ فِي الْإِنَاءِ ثُمَّ قَالَ ”أَدْنُوا فَتَوَضَّئُوا“ وَيَدُهُ فِي الْإِنَاءِ فَتَوَضَّئُوا حَتَّى مَا بَقِيَ مِنْهُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ قَالَ قُلْتُ يَا أَبَا حَمْزَةَ كَمْ تَرَاهُمْ قَالَ بَيْنَ السَّبْعِينَ وَالثَّمَانِينَثابت سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! آپ ہمیں ان عجیب باتوں (یعنی معجزات) میں سے کچھ ایسے معجزات بیان فرمائیں جو آپ نے خودملاحظہ کئے ہوںاور وہ آپ کسی دوسرے سے روایت نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چل کر ان مقامات پر جا بیٹھے، جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جبریل علیہ السلام آیا کرتے تھے۔ اتنے میں سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے آکر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عصر کی نماز کے لیے آواز دی۔ (یہ سن کر)جن لوگوں کے رہائش گاہیں مدینہ منورہ میں تھیں، وہ سب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے تاکہ قضائے حاجت کرکے باوضو ہو کر آئیں، کچھ مہاجرین جن کے اہل و عیال مدینہ منورہ میں نہ تھے، وہ رہ گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس پانی کا ایک کھلا برتن لایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی مبارک ہتھیلی اس میں رکھ دی۔مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہتھیلی برتن میں پوری نہ آسکی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چار انگلیاںاکٹھی کرکے برتن میں رکھ دیں اور فرمایا: قریب آجاؤاور وضو کرلو۔ اس دوران آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ہاتھ برتن میں ہی رہا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ میں نے دریافت کیا: ابو حمزہ! کیا خیال ہے وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ستر سے اسی کے درمیان تھے۔