الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ تَفَجرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أصَابِعِهِ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ باب: اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
عَنْ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ بِالزَّوْرَاءِ فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ لَا يَغْمُرُ أَصَابِعَهُ فَأَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَتَوَضَّئُوا فَوَضَعَ كَفَّهُ فِي الْمَاءِ فَجَعَلَ الْمَاءُ يَنْبَعُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ حَتَّى تَوَضَّأَ الْقَوْمُ قَالَ فَقُلْتُ لِأَنَسٍ كَمْ كُنْتُمْ قَالَ كُنَّا ثَلَاثَمِائَةٍسیدنا سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم زوراء مقام پر تشریف فرما تھے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں محض اس قدر پانی بھی نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیاں اس میں ڈوب جاتیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کو وضو کرنے کا حکم دیااور اپنی ہتھیلی پانی میں رکھ دی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے اور ان کے کناروں سے پانی نکلنے لگا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا : آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم تین سو تھے۔