حدیث نمبر: 11295
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ فَأَتَاهُ رَجُلٌ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَيْسَ فِي الْعَسْكَرِ مَاءٌ قَالَ ”هَلْ عِنْدَكَ شَيْءٌ؟“ قَالَ نَعَمْ قَالَ ”فَأْتِنِي بِهِ“ قَالَ فَأَتَاهُ بِإِنَاءٍ فِيهِ شَيْءٌ مِنْ مَاءٍ قَلِيلٍ قَالَ فَجَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَصَابِعَهُ فِي فَمِ الْإِنَاءِ وَفَتَحَ أَصَابِعَهُ قَالَ فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِهِ عُيُونٌ وَأَمَرَ بِلَالًا فَقَالَ ”نَادِ فِي النَّاسِ الْوَضُوءَ الْمُبَارَكَ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدناعبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس حال میں صبح کی کہ لشکر میں (لوگوں کے پاس اپنی ضروریات کے لیے) پانی (بالکل ) نہ تھا۔ ایک آدمی نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! لشکرمیں پانی بالکل نہیںہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ پانی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم وہ پانی میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: وہ ایک برتن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی انگلیاں برتن کے منہ میں ڈال کر انگلیوں کو ذرا کھولا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وضو کے لیے بابرکت پانی موجود ہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11295
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره، اخرجه الدارمي: 25، والبزار: 2415، والطبراني: 12560 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2268 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2268»