الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ تَفَجرِ الْمَاءِ مِنْ بَيْنِ أصَابِعِهِ عِنْدَ اشْتِدَادِ الْحَاجَةِ إِلَيْهِ باب: اس امر کا بیان کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنَا سُفْيَانُ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَلَمْ يَجِدُوا مَاءً فَأُتِيَ بِتَوْرٍ مِنْ مَاءٍ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهِ يَدَهُ وَفَرَّجَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ قَالَ فَرَأَيْتُ الْمَاءَ يَتَفَجَّرُ مِنْ بَيْنِ أَصَابِعِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ ”حَيَّ عَلَى الْوَضُوءِ وَالْبَرَكَةِ مِنَ اللَّهِ“ قَالَ الْأَعْمَشُ فَأَخْبَرَنِي سَالِمُ بْنُ أَبِي الْجَعْدِ قَالَ قُلْتُ لِجَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ كَمْ كَانَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ قَالَ كُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَةٍسیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ تھے، صحابہ کو پانی نہ ملا، پھر پانی سے بھرا ہوا پیتل کا ایک برتن لایا گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا۔میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹ رہا ہے۔ پھر آپ نے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا: وضو کے پانی اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی برکت کی طرف آؤ۔ اعمش کہتے ہیں : مجھے سالم بن ابی جعد نے بتایا کہ انہوں نے جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: اس دن لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم پندرہ سو (1500) تھے۔