الفتح الربانی
— سوم
بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ اِنْقِيَادُ مَا اسْتَعْطَى مِنَ الْحَيَوَانَاتِ وَالْجَمَادَاتِ بِبَرَكَتِهِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَأَزْكَى التَّسْلِيمَاتِ باب: اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ أَيْمَنَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَابِرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَكَثَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابُهُ وَهُمْ يَحْفِرُونَ الْخَنْدَقَ ثَلَاثًا لَمْ يَذُوقُوا طَعَامًا فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ هَاهُنَا كُدْيَةً مِنَ الْجَبَلِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”رُشُّوهَا بِالْمَاءِ فَرَشُّوهَا“ ثُمَّ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ الْمِعْوَلَ أَوِ الْمِسْحَاةَ ثُمَّ قَالَ ”بِسْمِ اللَّهِ“ فَضَرَبَ ثَلَاثًا فَصَارَتْ كَثِيبًا يُهَالُ قَالَ جَابِرٌ فَحَانَتْ مِنِّي الْتِفَاتَةٌ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَدَّ عَلَى بَطْنِهِ حَجَرًاسیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور صحابہ کرام بغیر کچھ کھائے تین روز تک خندق کھودتے رہے، کھدائی کے دوران صحابہ نے عرض کیا:اے اللہ کے رسول! یہاں ایک پہاڑی چٹان ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس پر پانی چھڑک دو۔ صحابہ کرام نے اس پر پانی چھڑک دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آکر گینتی اٹھائی اور فرمایا: بسم اللہ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار گینتی چلائی تو وہ چٹان ریزہ ریزہ ہو گئی۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اچانک میری نظر پڑی تو میں نے دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بطن مبارک پر پتھر باندھا ہوا تھا۔
اونٹ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے سجدہ کیا۔ یاد رہے کہ اس حدیث میں اونٹ کے سجدہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ اس نے اپنا منہ زمین پر رکھ دیا تھا۔ جیسا کہ اسی باب کی حدیث سے واضح ہے۔