الفتح الربانی
— سوم
بَابُ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ ﷺ اِنْقِيَادُ مَا اسْتَعْطَى مِنَ الْحَيَوَانَاتِ وَالْجَمَادَاتِ بِبَرَكَتِهِ عَلَيْهِ أَفْضَلُ الصَّلَوَاتِ وَأَزْكَى التَّسْلِيمَاتِ باب: اس امر کا بیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے سرکش اور باغی جانور اور جمادات بھی فرماں بردار بن جاتے تھے
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا كُنَّا بِالْحُرِّ انْصَرَفْنَا وَأَنَا عَلَى جَمَلٍ وَكَانَ آخِرُ الْعَهْدِ مِنْهُمْ وَأَنَا أَسْمَعُ صَوْتَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ بَيْنَ ظَهْرَيْ ذَلِكَ السَّمُرِ وَهُوَ يَقُولُ ”وَا عَرُوسَاهْ“ قَالَتْ فَوَاللَّهِ إِنِّي لَعَلَى ذَلِكَ إِذْ نَادَى مُنَادٍ أَنْ أَلْقِيَ الْخِطَامَ فَأَلْقَيْتُهُ فَأَعْلَقَهُ اللَّهُ بِيَدِهِسیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سفر پر روانہ ہوئے، جب ہم وادی حُرّ میں پہنچے اور وہاں سے واپس ہوئے، میں ایک اونٹ پر سوارتھی، اس کے بعد وہ دوڑ پڑا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ببول کے درختوں کے درمیان زور زور سے پکار رہے تھے: ہائے دلہن! ہائے دلہن! اورمیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آوازیں سن رہی تھی۔ اللہ کی قسم! میں اسی کیفیت سے دو چار تھی کہ کسی نے مجھے پکار کر اس کی مہار نیچے پھینکنے کا کہا: میں نے مہار کو نیچے پھینک دیا تو اللہ تعالیٰ نے اس مہار کو اونٹ کے اگلے پاؤں میں الجھا دیا (اور وہ رک گیا)۔