حدیث نمبر: 11287
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِنْ سَفَرٍ حَتَّى إِذَا دَفَعْنَا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حِيطَانِ بَنِي النَّجَّارِ إِذَا فِيهِ جَمَلٌ لَا يَدْخُلُ الْحَائِطَ أَحَدٌ إِلَّا شَدَّ عَلَيْهِ قَالَ فَذَكَرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَجَاءَ حَتَّى أَتَى الْحَائِطَ فَدَعَا الْبَعِيرَ فَجَاءَ وَاضِعًا مِشْفَرَهُ إِلَى الْأَرْضِ حَتَّى بَرَكَ بَيْنَ يَدَيْهِ قَالَ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”هَاتُوا خِطَامًا“ فَخَطَمَهُ وَدَفَعَهُ إِلَى صَاحِبِهِ قَالَ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى النَّاسِ قَالَ ”إِنَّهُ لَيْسَ شَيْءٌ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ إِلَّا يَعْلَمُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَّا عَاصِيَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں ایک سفر سے واپس آئے، جب ہم بنو نجار کے ایک باغ کے پاس پہنچے تو وہاں ایک سرکش اونٹ تھا، جو کوئی بھی باغ میں جاتا اونٹ اس پر حملہ کر دیتا، انصار نے اس بات کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ذکر کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باغ میں گئے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اونٹ کو بلایا، اس نے آکر اپنے ہونٹ زمین پر رکھ دیئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ــ اس کی مہار لاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی رسی اس سے باندھ کر اس کے سر پر رکھ دی اور اونٹ کو اس کے مالک کے سپرد کردیا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: سرکش اور نا فرمان جن و انس کے سوا زمین و آسمان کے درمیان موجود ہر چیز میرے متعلق جانتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ میں ایک اہم قانون بیان کیا گیا ہے کہ سرکش اور باغی جن وانس کے علاوہ کائنات کی ہر چیز میں شعور اور احساس ہے، جس شعور کی روشنی میں وہ اللہ تعالی، اس کی علامتوں اور اس کے رسول کو سمجھتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11287
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 11/ 473، والدارمي: 18، والطبراني في الكبير : 12744 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14333 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14385»