الفتح الربانی
— سوم
بَابُ حَنِيْنِ الْجِذْعِ لِفِرَاقِهِ ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں غمگین ہونے پر کھجور کے تنے کا گریہ
حدیث نمبر: 11285
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعٍ قَبْلَ أَنْ يَتَّخِذَ الْمِنْبَرَ فَلَمَّا اتَّخَذَ الْمِنْبَرَ وَتَحَوَّلَ إِلَيْهِ حَنَّ عَلَيْهِ فَأَتَاهُ فَاحْتَضَنَهُ فَسَكَنَ قَالَ ”وَلَوْ لَمْ أَحْتَضِنْهُ لَحَنَّ إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ منبر تیار ہونے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ستون کے قریب کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، منبر تیارہونے پر جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ادھر منتقل ہو گئے تو وہ تنا رونے لگا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے قریب آکر اسے اپنے سینے سے لگایا تو وہ خاموش ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر میں اسے سینے سے نہ لگاتا تو یہ قیامت تک روتا رہتا ۔
وضاحت:
فوائد: … یہ تنا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذکر سے متأثر تھا، جب اس نے اس ذکر کو گم پایاتو وہ رونے لگا، اللہ تعالی، اس کی علامات اور اس کے ذکر کے سلسلے میں کائنات کی ہر چیز کو شعور ہے۔