الفتح الربانی
— سوم
بَابُ حَنِيْنِ الْجِذْعِ لِفِرَاقِهِ ﷺ باب: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں غمگین ہونے پر کھجور کے تنے کا گریہ
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ إِلَى جِذْعِ نَخْلَةٍ قَالَ فَقَالَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ كَانَ لَهَا غُلَامٌ نَجَّارٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي غُلَامًا نَجَّارًا أَفَآمُرُهُ أَنْ يَتَّخِذَ لَكَ مِنْبَرًا تَخْطُبُ عَلَيْهِ قَالَ ”بَلَى“ قَالَ فَلَمَّا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ خَطَبَ عَلَى الْمِنْبَرِ قَالَ فَأَنَّ الْجِذْعُ الَّذِي كَانَ يَقُومُ عَلَيْهِ كَمَا يَئِنُّ الصَّبِيُّ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّ هَذَا بَكَى لِمَا فَقَدَ مِنَ الذِّكْرِ“۔(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھجور کے ایک تنے کے پاس کھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرمایا کرتے تھے، ایک انصاری خاتون ،جس کا غلام بڑھئی تھا، نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عر ض کیا: اے اللہ کے رسول! میرا ایک غلام بڑھئی ہے، کیا میں اس سے کہہ کر آپ کے خطبہ دینے کے لیے ایک منبر تیار کروا دوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی کیوں نہیں۔ ۔ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جب جمعہ کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم منبر پرکھڑے ہو کر خطبہ ارشاد فرما نے لگے، تو وہ تنا جس کے قریب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کھڑے ہوا کرتے تھے بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کے رونے لگا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کے قریب جو اللہ کا ذکر کیا جاتا تھا،اس سعادت سے محرومی پر یہ رویا ہے۔