حدیث نمبر: 11280
عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ حَدَّثَنَا شَيْخٌ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَنَحْنُ فِي غَزْوَةِ رُودِسَ يُقَالُ لَهُ ابْنُ عَبْسٍ قَالَ كُنْتُ أَسُوقُ لِآلٍ لَنَا بَقَرَةً قَالَ فَسَمِعْتُ مِنْ جَوْفِهَا يَا آلَ ذَرِيحٍ قَوْلٌ فَصِيحٌ رَجُلٌ يَصِيحُ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ فَقَدِمْنَا مَكَّةَ فَوَجَدْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَدْ خَرَجَ بِمَكَّةَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مجاہد کہتے ہیں: جاہلیت کو پانے والے ایک شیخ نے ہم کو بیان کیا، جبکہ ہم غزوۂ رودِس میں تھے، اس شیخ کو ابن عبس کہتے تھے، اس نے کہا: میں اپنی آل کی ایک گائے کو ہانک رہا تھا کہ میں نے اس کے پیٹ سے یہ آواز سنی: اے آل ذریح! فصاحت والا کلام ہے، ایک آدمی لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کی آواز لگا رہا ہے، پھر جب ہم مکہ میں آئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ آپ مکہ میں نبوت کا اعلان کر چکے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس باب سے معلوم ہوا کہ جمادات کو بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نبی و رسول ہونے کا شعور تھا۔ اور مکہ میں ایک پتھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے قبل آپ کو سلام کہا کرتا تھا۔
اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ اللہ چاہے تو جمادات کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے۔
نیز معلوم ہوا کہ علامات قیامت میں سے ایکیہ بھی ہے کہ قیامت سے قبل درندے یعنی جانور انسانوں سے انسانوں کی طرح ہم کلام ہوں گے اور اللہ چاہے تو جانوروں کو بھی بولنے کی طاقت دے سکتا ہے جیسا کہ بھیڑیئے نے چرواہے کے ساتھ گفتگو کی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11280
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «ھذا الاثر اسناده ضعيف، تفرد به عبيدالله بن ابي زياد وھو ممن لا يحتمل تفرده ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16695 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16815»