الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِن مُعْجِزَائِهِﷺ نُطْقُ الْجَمَادَاتِ وَالْحَيَوَانِ وَحَنِيْنِ الْجِذْعِ لِفِرَاقِهِ باب: اس امر کا بیان کہ جمادات اور حیوانات کا گفتگو کرنا اور کھجور کے تنے کا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جدائی میں رونابھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزات میں سے ہے
حدیث نمبر: 11277
عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنِّي لَأَعْرِفُ حَجَرًا بِمَكَّةَ كَانَ يُسَلِّمُ عَلَيَّ قَبْلَ أَنْ أُبْعَثَ“ (وَفِي رِوَايَةٍ لَيَالِيَ بُعِثْتُ) ”إِنِّي لَأَعْرِفُهُ الْآنَ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک میں مکہ مکرمہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں، وہ بعثت سے پہلے یا بعثت والی راتوں کو مجھ کو سلام کہتا تھا، میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے معجزہ کا بیان ہے، نیز معلوم ہوا کہ جمادات میں بھی تمیز اور شناخت کا شعور موجود ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: {وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ} … اور بے شک ان سے کچھ پتھر یقینا وہ ہیں جو اللہ کے ڈر سے گر پڑتے ہیں (سورۂ بقرہ: ۷۴)