الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ شِفَاءُ الْمَرْضَى بِبَرَكَتِهِ وَشَكْوَى الْجَمَلِ إِلَيْهِ وَانْتِقَالِ الشَّجَرِ مِنْ مَكَانِهِ لِلسَّلَامِ عَلَيْهُ وَانْقِيَادِهِ لأَمْرِهِ ﷺ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ قَالَ أَرْدَفَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ يَوْمٍ خَلْفَهُ فَأَسَرَّ إِلَيَّ حَدِيثًا لَا أُخْبِرُ بِهِ أَحَدًا أَبَدًا وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَحَبُّ مَا اسْتَتَرَ بِهِ فِي حَاجَتِهِ هَدَفٌ أَوْ حَائِشُ نَخْلٍ فَدَخَلَ يَوْمًا حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْأَنْصَارِ فَإِذَا جَمَلٌ قَدْ أَتَاهُ فَجَرْجَرَ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ قَالَ بَهْزٌ وَعَفَّانُ فَلَمَّا رَأَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَنَّ وَذَرَفَتْ عَيْنَاهُ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ سَرَاتَهُ وَذِفْرَاهُ فَسَكَنَ فَقَالَ ”مَنْ صَاحِبُ الْجَمَلِ“ فَجَاءَ فَتًى مِنَ الْأَنْصَارِ فَقَالَ هُوَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ فَقَالَ ”أَمَا تَتَّقِي اللَّهَ فِي هَذِهِ الْبَهِيمَةِ الَّتِي مَلَّكَكَهَا اللَّهُ“ إِنَّهُ شَكَا إِلَيَّ أَنَّكَ تُجِيعُهُ وَتُدْئِبُهُسیدناعبداللہ بن جعفر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں : اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن مجھے سواری پر اپنے پیچھے سوار کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے راز دارانہ طور پر ایک بات فرمائی،جو میں کبھی بھی کسی کو نہیں بتلاؤں گا۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت کے وقت کسی بلند عمارت یا کھجوروں کے جھنڈکو پسند کیا کرتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک دن انصاریوں کے کھجوروں کے باغات میں سے ایک باغ میں تشریف لے گئے، تو ایک اونٹ نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آکر بلبلانا اور آنکھوں سے آنسو بہانا شرو ع کر دیا۔ جعفر اور عفان سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا تو رونے لگا اور اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی پشت پر اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرا تو وہ پر سکون ہوگیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا ـ: اس اونٹ کا مالک کون ہے؟ ایک انصاری نو جوان نے آکر عرض کی: اے اللہ کے رسول! یہ اونٹ میرا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ نے تمہیں اس جانور کا مالک بنایا ہے۔ کیا تم اس کے بارے میں اللہ سے نہیں ڈرتے؟ اس نے مجھ سے شکایت کی ہے کہ تم اسے بھوکا رکھتے ہو اور مشقت زیادہ لیتے ہو۔