الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ شِفَاءُ الْمَرْضَى بِبَرَكَتِهِ وَشَكْوَى الْجَمَلِ إِلَيْهِ وَانْتِقَالِ الشَّجَرِ مِنْ مَكَانِهِ لِلسَّلَامِ عَلَيْهُ وَانْقِيَادِهِ لأَمْرِهِ ﷺ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ أُتِيَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ بَنِي عَامِرٍ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرِنِي الْخَاتَمَ الَّذِي بَيْنَ كَتِفَيْكَ فَإِنِّي مِنْ أَطَبِّ النَّاسِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”أَلَا أُرِيكَ آيَةً“ قَالَ بَلَى قَالَ فَنَظَرَ إِلَى نَخْلَةٍ فَقَالَ ”أُدْعُ ذَلِكَ الْعِذْقَ“ قَالَ فَدَعَاهُ فَجَاءَ يَنْقُزُ حَتَّى قَامَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”ارْجِعْ“ فَرَجَعَ إِلَى مَكَانِهِ فَقَالَ الْعَامِرِيُّ يَا آلَ بَنِي عَامِرٍ مَا رَأَيْتُ كَالْيَوْمِ رَجُلًا أَسْحَرَسیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں : قبیلہ ٔ بنو عامر کا ایک فرد نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! آپ کے کندھوں کے درمیان جو ابھرا ہوا گوشت ہے، وہ مجھے دکھلائیں۔ میں ایک ماہر طبیب ہوں۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: آیا میں تجھے ایک نشانی نہ دکھلاؤں؟ اس نے کہا ضرور دکھلائیں ۔ آپ نے کھجور کے ایک درخت کی طرف دیکھ کر فرمایا: کھجور کے اس درخت کو بلاؤ۔ اس نے اسے بلایا تو وہ چھلانگیں لگاتاہوا آیا اور آپ کے سامنے آکر کھڑا ہوگیا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے واپس لوٹ جانے کا حکم دیا تو وہ اپنی جگہ واپس پلٹ گیا۔ تو اس عامری نے کہا :اے آل بنو عامر! میں نے اس سے بڑا جادو گر کبھی نہیں دیکھا۔