الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ شِفَاءُ الْمَرْضَى بِبَرَكَتِهِ وَشَكْوَى الْجَمَلِ إِلَيْهِ وَانْتِقَالِ الشَّجَرِ مِنْ مَكَانِهِ لِلسَّلَامِ عَلَيْهُ وَانْقِيَادِهِ لأَمْرِهِ ﷺ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11274
عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي عُبَيْدٍ قَالَ رَأَيْتُ أَثَرَ ضَرْبَةٍ فِي سَاقِ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ فَقُلْتُ يَا أَبَا مُسْلِمٍ مَا هَذِهِ الضَّرْبَةُ قَالَ هَذِهِ ضَرْبَةٌ أُصِبْتُهَا يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ يَوْمَ أُصِبْتُهَا قَالَ النَّاسُ أُصِيبَ سَلَمَةُ فَأُتِيَ بِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَنَفَثَ فِيهِ ثَلَاثَ نَفَثَاتٍ فَمَا اشْتَكَيْتُهَا حَتَّى السَّاعَةِترجمہ:محمد محفوظ اعوان
یزید بن عبید سے مروی ہے،وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کی پنڈلی پر زخم کا ایک نشان دیکھا، میں نے پوچھا: ابو مسلم! یہ نشان کیسا ہے؟ انہوں نے کہا: خیبر کے دن مجھے زخم لگا تھا، یہ اس کا نشان ہے، جس دن مجھے یہ زخم آیا تھا، لوگوں نے کہا: سلمہ رضی اللہ عنہ کو شدید قسم کا زخم آیا ہے، مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں لایا گیا، آپ نے اس زخم پر تھوک کے ساتھ تین پھونکیں ماریں، اس کے بعد اب تک مجھے اس میں کوئی درد محسوس نہیں ہوا۔