الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ شِفَاءُ الْمَرْضَى بِبَرَكَتِهِ وَشَكْوَى الْجَمَلِ إِلَيْهِ وَانْتِقَالِ الشَّجَرِ مِنْ مَكَانِهِ لِلسَّلَامِ عَلَيْهُ وَانْقِيَادِهِ لأَمْرِهِ ﷺ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11273
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ بِوَلَدِهَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ بِهِ لَمَمًا وَإِنَّهُ يَأْخُذُهُ عِنْدَ طَعَامِنَا فَيُفْسِدُ عَلَيْنَا طَعَامَنَا قَالَ فَمَسَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ صَدْرَهُ وَدَعَا لَهُ فَتَعَّ تَعَّةً فَخَرَجَ مِنْ فِيهِ مِثْلُ الْجَرْوِ الْأَسْوَدِ فَشُفِيَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت اپنے بیٹے کو لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں آئی اور اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس پر جنون یعنی پاگل پن کا اثر ہے اور اسے ہمارے کھانے کے وقت دورہ پڑتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے سینے پر ہاتھ پھیرا اور اس کے لیے دعا کی، تو اسے ایک قے آئی اور اس کے منہ سے کتے کے پلے کی سی کوئی سیاہ چیز نکلی اور و ہ شفا یاب ہوگیا۔