حدیث نمبر: 11272
عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْأَحْوَصِ الْأَزْدِيِّ قَالَ حَدَّثَتْنِي أُمِّي أَنَّهَا رَأَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَرْمِي جَمْرَةَ الْعَقَبَةِ مِنْ بَطْنِ الْوَادِي وَخَلْفَهُ إِنْسَانٌ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ أَنْ يُصِيبُوهُ بِالْحِجَارَةِ وَهُوَ يَقُولُ ”أَيُّهَا النَّاسُ لَا يَقْتُلْ بَعْضُكُمْ بَعْضًا وَإِذَا رَمَيْتُمْ فَارْمُوا بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ“ ثُمَّ أَقْبَلَ فَأَتَتْهُ امْرَأَةٌ بِابْنٍ لَهَا فَقَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ ابْنِي هَذَا ذَاهِبُ الْعَقْلِ فَادْعُ اللَّهَ لَهُ قَالَ لَهَا ”ائْتِينِي بِمَاءٍ“ فَأَتَتْهُ بِمَاءٍ فِي تَوْرٍ مِنْ حِجَارَةٍ فَتَفَلَ فِيهِ وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثُمَّ دَعَا فِيهِ ثُمَّ قَالَ ”اذْهَبِي فَاغْسِلِيهِ بِهِ وَاسْتَشْفِي اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ“ فَقُلْتُ لَهَا هَبِي لِي مِنْهُ قَلِيلًا لِابْنِي هَذَا فَأَخَذْتُ مِنْهُ قَلِيلًا بِأَصَابِعِي فَمَسَحْتُ بِهَا شِقَّةَ ابْنِي فَكَانَ مِنْ أَبَرِّ النَّاسِ فَسَأَلْتُ الْمَرْأَةَ بَعْدُ مَا فَعَلَ ابْنُهَا قَالَتْ بَرِئَ أَحْسَنَ بَرْءٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سلیمان بن عمرو بن احوص ازدی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھ سے بیان کیا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو جمرۂ عقبہ کی رمی کرتے ہوئے دیکھا، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آگے بڑھے اورایک عورت اپنے بچے کو لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آگئی اور اس نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میرایہ بیٹا پاگل ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے فرمایا: پانی لاؤ۔ وہ پتھر کے ایک برتن میں پانی لے کر آئی، آپ نے اس میں اپنا لعاب دہن ڈالا اور آپ نے اپنا چہرہ اس برتن کے اوپر دھویا، پانی نیچے اس برتن میں گرا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس برتن میں دعا پڑھی اور فرمایا : جاؤ بچے کو اس پانی کے ساتھ غسل دینا اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی دعا کرنا۔ میں نے اس سے کہا: تو اس پانی میں سے تھوڑا سا مجھے بھی دے دے تاکہ میں اپنے بیٹے کو پلا لوں، پھر میں نے اپنی انگلی کے ساتھ اس میں سے تھوڑا سا پانی لے کر اپنے بیٹے کے ہونٹ پر لگا دیا۔ اس کے نتیجے میں وہ سب سے بڑھ کر نیک ہوا۔ میں نے اس کے بعد اس عورت سے اس کے بیٹے کے متعلق دریافت کیا کہ اس کا کیا حال ہے؟ اس نے بتلایاکہ وہ بالکل ٹھیک ہو گیا تھا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11272
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره دون قوله: فأتته بماء الخ ، وھذا اسناد ضعيف لضعف يزيد بن عطاء ويزيد بن ابي زياد الھاشمي، ولجھالة حال سليمان بن عمرو بن الاحوص ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27132 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27672»