الفتح الربانی
— سوم
بَابٌ وَمِنْ مُعْجِزَاتِهِ شِفَاءُ الْمَرْضَى بِبَرَكَتِهِ وَشَكْوَى الْجَمَلِ إِلَيْهِ وَانْتِقَالِ الشَّجَرِ مِنْ مَكَانِهِ لِلسَّلَامِ عَلَيْهُ وَانْقِيَادِهِ لأَمْرِهِ ﷺ باب: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معجزہ کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی برکت سے مریضوں کی شفایابی، اونٹ کے آپ کو شکایت کرنے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حکم کی بجا آوری کے لیے درخت کے اپنی جگہ سے ہٹ جانے کا تذکرہ
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ رَابِعٍ) قَالَ مَا أَظُنُّ أَنَّ أَحَدًا مِنَ النَّاسِ رَأَى مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا دُونَ مَا رَأَيْتُ فَذَكَرَ أَمْرَ الصَّبِيِّ وَالنَّخْلَتَيْنِ وَأَمْرَ الْبَعِيرِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ ”مَا لِبَعِيرِكَ يَشْكُوكَ زَعَمَ أَنَّكَ سَانِيهِ حَتَّى إِذَا كَبُرَ تُرِيدُ أَنْ تَنْحَرَهُ“ قَالَ صَدَقْتَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ نَبِيًّا قَدْ أَرَدْتُ ذَلِكَ وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَا أَفْعَلُ۔(چوتھی سند) سیدنایعلی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں سمجھتا ہوں کہ میں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جو باتیں دیکھی ہیں، دوسروں نے ان سے کم ہی دیکھی ہوں گی۔ پھر انہوں نے بچے کا، دو کھجوروں کا اور اونٹ والا واقعہ ذکر کیا۔ البتہ اس روایت میں یوں ہے کہ آپ نے اونٹ کے مالک سے فرمایا: کیا بات ہے، یہ اونٹ تمہاری شکایت کر رہا ہے؟ یہ کہہ رہا ہے کہ تم اس پر پانی لاد لاد کر اس سے کام لیتے رہے اور اب جب یہ بوڑھا ہو گیا ہے تو تم اسے نحر کر دینا چاہتے ہو۔ اس نے کہا: اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ نبی بنا کر مبعوث کیا ہے! آپ کی بات واقعی درست ہے، میرایہی ارادہ ہے،اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے! میں اسے نحر(ذبح) نہیں کروں گا۔