حدیث نمبر: 11262
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”مَا مِنَ الْأَنْبِيَاءِ نَبِيٌّ إِلَّا وَقَدْ أُعْطِيَ مِنَ الْآيَاتِ مَا مِثْلُهُ آمَنَ عَلَيْهِ الْبَشَرُ وَإِنَّمَا كَانَ الَّذِي أُوتِيتُ وَحْيًا أَوْحَاهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيَّ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَكْثَرَهُمْ تَبَعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ہر نبی کو معجزات اور نشانیوں میں سے وہ کچھ عطا کی گئی کہ لوگ اس پر ایمان لاتے رہے، اور جو چیز مجھے عطا کی گئی ہے، وہ صرف وحی1 ہے، اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کی ہے، مجھے امید ہے کہ روز قیامت میرے فرمانبرداروں کی تعداد سب سے زیادہ ہو گی۔

وضاحت:
فوائد: … ہر نبی کو اس کے زمانے کے مطابق معجزات اور خارق عادت امور عطا کیے گئے، جن سے ان کی تصدیق ہوتی تھی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی مختلف معجزاب عطا کیے گئے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سب سے بڑا معجزہ قرآن مجید ہے، جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد والے افراد کو بھی حیران و ششدر کیے رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات ِ مبارکہ میں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر پر ایمان لانے والوں کی اکثریت قرآن مجید سے متأثر ہوئی، اب پندرہویں صدی جاری ہے، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر نازل ہونے والے کلام اور خود آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کلام کا اعجاز قائم ہے اور قائم رہے گا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11262
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 4981، 7274، ومسلم: 152، 239 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7491 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8472»