الفتح الربانی
— سوم
بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11258
عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”أُعْطِيتُ مَكَانَ التَّوْرَاةِ السَّبْعَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الزَّبُورِ الْمِئِينَ وَأُعْطِيتُ مَكَانَ الْإِنْجِيلِ الْمَثَانِيَ وَفُضِّلْتُ بِالْمُفَصَّلِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تورات کے عوض سبع طوال (سات مفصل سورتیں)،زبور کے عوض مئیں،انجیل کے عوض مثانی دی گئی ہیں اور مفصل سورتوں کے ذریعے باقی انبیاء پر مجھے فضیلت دی گئی ہے۔
وضاحت:
فوائد: … قرآن کریم کی سورتیں چار قسم کی ہیں: (۱) طِوَال: سات ہیں، بقرہ، آل عمران، نسائ، مائدہ، انعام، اعراف اور انفال اور براء ت(سورۂ انفال اور سورۂ براء ت) کو ایک شمار کیا گیا ہے۔
(۲) المِئِیْنَ: جن سورتوں کی آیات (۱۰۰) سے زائد یا اس کے قریب ہیں۔
(۳) الْمَثَانِی: وہ سورتیں جو تعداد میں مئین کے بعد آتی ہیں، ان کو مثانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کو طوال اور مئین کی بہ نسبت بار بار پڑھا جاتا ہے۔
(۴) المُفصَّل: ان کی ابتداء سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے ہوتی ہے، یہ مزید تین حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں: طِوال مُفصَّل: سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ نباء یا سورۂ بروج تک۔
اَوْسَاط مُفصَّل: سورہ نباء یا سورۂ بروج سے لے کر سورۂ ضحییا سورۂ بینہ تک۔
قِصَار مُفصَّل: سورۂ ضحییا سورۂ بینہ سے آخرِ قرآن تک۔
(۲) المِئِیْنَ: جن سورتوں کی آیات (۱۰۰) سے زائد یا اس کے قریب ہیں۔
(۳) الْمَثَانِی: وہ سورتیں جو تعداد میں مئین کے بعد آتی ہیں، ان کو مثانی اس لیے کہا جاتا ہے کہ ان کو طوال اور مئین کی بہ نسبت بار بار پڑھا جاتا ہے۔
(۴) المُفصَّل: ان کی ابتداء سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے ہوتی ہے، یہ مزید تین حصوں میں تقسیم کی جاتی ہیں: طِوال مُفصَّل: سورۂ ق یا سورۂ حجرات سے لے کر سورۂ نباء یا سورۂ بروج تک۔
اَوْسَاط مُفصَّل: سورہ نباء یا سورۂ بروج سے لے کر سورۂ ضحییا سورۂ بینہ تک۔
قِصَار مُفصَّل: سورۂ ضحییا سورۂ بینہ سے آخرِ قرآن تک۔