الفتح الربانی
— سوم
بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11257
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ وَفِي مُؤَخَّرِ الصُّفُوفِ رَجُلٌ فَأَسَاءَ الصَّلَاةَ فَلَمَّا سَلَّمَ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يَا فُلَانُ أَلَا تَتَّقِي اللَّهَ أَلَا تَرَى كَيْفَ تُصَلِّي إِنَّكُمْ تَرَوْنَ أَنَّهُ يَخْفَى عَلَيَّ شَيْءٌ مِمَّا تَصْنَعُونَ وَاللَّهِ إِنِّي لَأَرَى مِنْ خَلْفِي كَمَا أَرَى مِنْ بَيْنِ يَدَيَّ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، صفوں کے آخر میں ایک آدمی نے نماز اچھی طرح ادا نہیں کی تھی، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام پھیراتو اس سے فرمایا: ارے فلاں! کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں ہے، تم نماز کس طرح ادا کرتے ہو؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ تم جو کچھ کرتے ہو وہ مجھ سے پوشیدہ ہے، اللہ کی قسم! میں جس طرح آگے دیکھتا ہوں، اسی طرح پیچھے بھی دیکھتا ہوں۔
وضاحت:
فوائد: … نماز میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ خصوصیت اور معجزہ حاصل تھا، جس کا تعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مقتدیوں سے تھا، وگرنہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت تک اپنے جوتے سے لگی ہوئی نجاست کا علم نہیں ہوا تھا، جب تک جبریل علیہ السلام نے تشریف لا کر بتایا نہیں۔