الفتح الربانی
— سوم
بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11255
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ ”إِنِّي نُصِرْتُ بِالصَّبَا وَإِنَّ عَادًا أُهْلِكَتْ بِالدَّبُورِ“ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: باد صبا کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے۔ اور قوم عاد کو مغرب کی طرف سے آنے والی تیز ہوا یعنی شدید آندھی کے ذریعے ہلاک کیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … باد صبا: یہ معروف ہوا ہے، اس کو قَبول بھی کہتے ہیں، کیونکہیہ خانہ کعبہ کے دروازے کے بالمقابل چلتی ہے، دراصل یہ ہوا مشرق کی سمت سے آتی ہے۔
دبور: یہ ہوا مغرب کی سمت سے چلتی ہے اور بادِ صبا کی ضد ہے۔
دبور: یہ ہوا مغرب کی سمت سے چلتی ہے اور بادِ صبا کی ضد ہے۔