الفتح الربانی
— سوم
بابُ مَا جَاءَ فِي خُصُوصِيَّاتِهِ ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خصوصیات کا تذکرہ
حدیث نمبر: 11253
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ وَأُعْطِيتُ جَوَامِعَ الْكَلَامِ وَبَيْنَا أَنَا نَائِمٌ إِذْ جِيءَ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدِي“ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ لَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَشِلُونَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دشمن پر میری ہیبت کے ذریعے میری مدد کی گئی، مجھے جامع کلمات عطا کئے گئے ہیں، میں سویا ہوا تھا کہ روئے زمین کے خزانوں کی چابیاں لا کر میرے ہاتھ میں تھما دی گئیں۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو تشریف لے گئے ہیں اور تم ان خزانوں کو سمیٹ رہے ہو۔
وضاحت:
فوائد: … خزانوںکی چابیوں سے مراد فتوحات کے سلسلے ہیں، جن کے نتیجے میں کثیر مال غنیمت ہاتھ آیا۔