حدیث نمبر: 11252
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”بُعِثْتُ بَيْنَ يَدَيِ السَّاعَةِ بِالسَّيْفِ حَتَّى يُعْبَدَ اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَجُعِلَ رِزْقِي تَحْتَ ظِلِّ رُمْحِي وَجُعِلَ الذُّلُّ وَالصِّغَارُ عَلَى مَنْ خَالَفَ أَمْرِي وَمَنْ تَشَبَّهَ بِقَوْمٍ فَهُوَ مِنْهُمْ“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تلوار دے کر قیامت سے قبل مبعوث کیا گیا ہے، تاکہ ایک اللہ کی عبادت کی جائے، جس کا کوئی شریک نہیں اور میرا رزق میرے نیزے کی انی کے نیچے رکھا گیا ہے اور جس نے میرے دین کی مخالفت کی، ذلت و رسوائی اس کا مقدر ٹھہری اور جس نے کسی قوم کی مشابہت اختیار کی، وہ انہی میں سے شمار ہو گا۔

وضاحت:
فوائد: … جب تلک نبوی منہج کے مطابق جہاد کا سلسلہ جاری رہا اور رہے گا، اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کییہ پیشین گوئیاں پوری ہوتی رہیں پوری ہوتی رہیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11252
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عبد الرحمن بن ثابت اختلف فيه اقوال المجرحين والعادلين، وخلاصة القول فيه انه حسن الحديث اذا لم ينفرد بما يُنكر، فقد اشار الامام احمد الي ان له احاديث منكرة، وھذا منھا اخرجه ابن ابي شيبة: 5/313، والبخاري معلقا: 6/ 98 (الفتح)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5667 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5667»