حدیث نمبر: 11251
حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَمَةَ يَقُولُ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ أُوتِيَ نَبِيُّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَفَاتِيحَ كُلِّ شَيْءٍ غَيْرَ الْخَمْسِ {إِنَّ اللَّهَ عِنْدَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ} [لقمان: 34] قَالَ قُلْتُ لَهُ أَنْتَ سَمِعْتَهُ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ نَعَمْ أَكْثَرَ مِنْ خَمْسِينَ مَرَّةً
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: تمہارے نبی کو پانچ چیزوں کے علاوہ ہر چیز کی چابیاں عطا کی گئی ہیں۔ وہ پانچ چیزیںیہ ہیں: {إِنَّ اللّٰہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَۃِ وَیُنَزِّلُ الْغَیْثَ وَیَعْلَمُ مَا فِی الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ مَاذَا تَکْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِی نَفْسٌ بِأَیِّ أَرْضٍ تَمُوتُ، إِنَّ اللّٰہَ عَلِیمٌ خَبِیرٌ} … قیامت کا علم اللہ ہی کے پاس ہے، وہی بارش برساتا ہے، وہی جانتا ہے کہ ماؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پا رہا ہے، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والا ہے اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کس سرزمین میں اس کی موت آنی ہے، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔ (سورۂ لقمان: ۲۴) عمرو بن مرہ کہتے ہیں: میں نے اپنے شیخ عبداللہ بن سلمہ سے دریافت کیا کہ آیا آپ نے یہ حدیث سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے خودسنی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، پچاس سے بھی زائد مرتبہ سنی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ہر چیز کی چابیاں دے دی گئیں،یہ الفاظ تو اگرچہ عام ہیں، لیکن ان سے مراد وہ خاص علم ہے، جو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو عطا کیا جانا تھا، وگرنہ یہ لازم آئے گا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا علم لامتناہی ہو اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم علم غیب بھی جاننے والے ہوں، جبکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {قُلْ لَّایَعْلَمُ مَنْ فِیْ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضِ الْغَیْبَ اِلَّا اللّٰہُ} … آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں، وہ غیب کو نہیں جانتے، مگر اللہ تعالی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11251
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه الطيالسي: 385، وابويعلي: 5153 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4167»