حدیث نمبر: 11249
وَعَنْ أَبِي مُوسَى بِنَحْوِهِ وَفِيهِ ”وَأُعْطِيتُ الشَّفَاعَةَ وَلَيْسَ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا وَقَدْ سَأَلَ شَفَاعَةً وَإِنِّي أَخْبَأْتُ شَفَاعَتِي ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَمْ يُشْرِكْ بِاللَّهِ شَيْئًا“
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، (یہ حدیث گزشتہ حدیث کی مانندہے) البتہ اس میں ہے: مجھے شفاعت کا اختیار دیا گیا ہے اور ہر نبی نے اپنی زندگی میں ہی شفاعت کر لی، لیکن میں نے اپنی شفاعت کو چھپا لیا، (یعنی محفوظ اور مؤخر کر لیا)، اب یہ شفاعت میں اپنی امت کے ایسے لوگوں کے حق میں کروں گا، جنہوں نے اللہ کے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ کیا۔

وضاحت:
فوائد: … رعب سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدد کی گئی ہے، اس سے مراد یہ ہے کہ ظاہری اسباب کے بغیر دشمنوں کے دلوں میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا رعب موجود ہے، رہا مسئلہ ظاہری اسباب کی وجہ سے رعب کاہونا تو یہ ایک روٹین والا معاملہ ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / حدیث: 11249
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره، اخرجه ابن ابي شيبة: 11/433 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19735 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19973»